Al-Risala · October 1999 · page 26

صبر کا فائدہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۶

سفر میں میرے ہمراہ نہ ہو۔

اس معاملے میں اسلام ہر انسان کے لئے امید کا ایک چراغ ہے۔ اسلام کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا جو تخلیقی منصوبہ انسان پر منکشف کیا ہے وہ بتاتا ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں، موت دراصل ایک درمیانی وقفہ ہے جس کے بعد آدمی اپنے اگلے مرحلہ حیات میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس دوسرے مرحلہ حیات میں انسان اسی طرح ایک زیادہ کامل اور وسیع دنیا میں جئے گا جس طرح وہ موجودہ دنیا میں نسبتاً بہت مختصر اور کمتر زندگی گزار رہا تھا۔ اسلام کے ذریعہ یہ خبر جو انسان کو دی گئی ہے وہ ہر مرد و عورت کے لئے زندگی کا نیا پیغام ہے۔ اس خبر کی صورت میں آدمی اس امکان کو دریافت کرتا ہے کہ وہ اگلی دنیا کے قوانین کو جانے اور اس کے مطابق زندگی گزارے تا کہ وہ موت کے بعد دوبارہ ایک نئی اور زیادہ بہتر زندگی پالے۔ اس تخلیقی منصوبہ سے بے خبری انسان کو اپنی زندگی کے بارے میں مایوسی میں مبتلا کرتی ہے۔ مگر جب وہ اس تخلیقی منصوبہ کو جان لے تو اس کے بعد اس کے سامنے زندگی کا نیا وسیع تر دروازہ کھل جاتا ہے۔ وہ بظاہر اپنی محرومی میں ایک نئی یافت کا راز پا لیتا ہے۔ ایک انوکھی خوشخبری قرآن کی سورہ نمبر ۳۹ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”تم کہہ دو کہ اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ “ (الزمر ۵۳) قرآن کی یہ آیت انسان کے لئے ایک عظیم خوشخبری ہے۔ موجودہ دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے ہر آدمی سے طرح طرح کی کوتاہیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں۔ ان گناہوں کا انجام اگر لازمی طور پر بھگتنا ہو تو انسان کے لئے زندگی کتنی بڑی مصیبت بن جائے۔ مگر خدا کی کتاب انسان پر یہ راز کھولتی ہے کہ اس کے لئے اس معاملہ میں مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔ گناہوں سے معافی کا یہ راز کیا ہے۔ وہ ہے گناہ پر شرمندگی اور اللہ کی طرف دوبارہ رجوع

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page