Al-Risala · October 1999 · page 29

تکلیف میں راحت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۹

(فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۱۰/ ۷۲) یعنی جب بھی کسی مسلم پر کوئی تھکان یا دردیارنج یا حزن یا تکلیف یا غم پہنچتا ہے یہاں تک کہ اگر کوئی کانٹا بھی چھبتا ہے تو اللہ ضرور ان مصیبتوں کو اس کی خطاؤں کے لئے کفارہ بنا دیتا ہے۔

یہاں مسلم سے مراد وہ انسان ہے جس کو حقیقت کی پہچان ہو گئی ہو۔ جو چیزوں کو اس کے صحیح رخ سے دیکھنے کے قابل ہو جائے، جو خدا کی خدائی کو دریافت کر لے اور اسی کے ساتھ انسان کی انسانیت کو بھی۔

ایسا انسان اپنی حقیقت شناسی کی بنا پر وہ انسان بن جاتا ہے جو ہر آنے والی صورت حال کا صحیح جواب (response) دے سکے۔ ایسے انسان پر جب کوئی چھوٹی یا بڑی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کی سوچ کو جگانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ایسے تجربات کے درمیان وہ اپنے عجز کو دریافت کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصیبت کے وقت فریاد اور شکایات کرنے کے بجائے وہ قادر مطلق خدا کو یاد کرنے لگتا ہے۔ ان تجربات کے درمیان وہ اپنی حیثیت واقعی کا ادراک کر لیتا ہے۔ اس معاملے کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ مسلم وہ ہے جو زندگی کے تلخ تجربات کو منفی معنوں میں لینے کے بجائے ان کو مثبت معنوں میں لے سکے۔ مسلم انسان کی یہ صفت اس کے لئے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی اصلاح کا محرک بن جاتی ہے۔ دنیا کی ہر ٹھوکر اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے معاملے پر از سر نو غور کرے۔ وہ اپنا احتساب آپ کرنے لگے۔ اصلاح خویش کے اس عمل کا دینی نام کفارہ ہے۔

اسلام کا یہ اصول انسان کے لئے ایک عظیم خوش خبری ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو بار بار مختلف قسم کی مصیبتیں پیش آتی ہیں۔ آدمی اگر باشعور نہ ہو تو دنیا کی مصیبت اس کے لئے صرف مصیبت یا تکلیف ہو گی، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ مگر جو انسان صاحب معرفت ہو، جس کے ایمان نے اس کو باشعور بنا دیا ہو وہ اس پوزیشن میں ہو جاتا ہے کہ اپنی تکلیف کو بھی راحت بنا سکے، اپنے نہیں کو ہے میں تبدیل کر سکے۔ وہ کھونے کو بھی اپنے لئے پا بنا لے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page