Al-Risala · October 1999 · page 30

تکلیف میں راحت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۰

اسلام کا یہ تصور انسان کے لئے ایک عظیم نعمت ہے، وہ تکلیف کے احساس کو بھی راحت کے احساس میں بدل دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی پر جب کوئی چھوٹی یا بڑی مصیبت پڑتی ہے تو وہ کبھی گھبراہٹ میں مبتلا نہیں ہوتا۔ ہر مصیبت کے موقع پر وہ یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس مصیبت نے میری زندگی کی کسی غلطی کو میرے اعمال کے ریکارڈ سے مٹا دیا۔ مجھے قصور وار انسان کے مقام سے اٹھا کر بے قصور انسان کی صف میں پہونچا دیا۔ توکل اور اعتماد اسلام کی ایک اہم تعلیم وہ ہے جس کو توکل علی اللہ کہا جاتا ہے۔ یعنی ہر حال میں اللہ کے اوپر بھروسہ رکھنا، اللہ کی رحمت سے کبھی نا امید نہ ہونا، قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ ”اور تم اللہ پر تو کل کرو، اور اللہ کار ساز ہونے کے لئے کافی ہے (الاحزاب (۳) دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ تم اللہ پر توکل کرو اگر تم مومن ہو۔ (المائدہ (۲۳) اسی طرح قرآن میں اہل حق کی زبان سے کہا گیا ہے کہ ”اور جو تکلیف تم ہمیں دو گے ہم اس پر صبر کریں گے، اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے ۔ (ابراہیم (۱۲) اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تم اس طرح کہو کہ ”اللہ میرے لئے کافی ہے، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ (الزمر ۳۸)

توکل کا عقیدہ امید اور یقین کا لازوال سر چشمہ ہے۔ یہ عقیدہ آدمی کو یہ یقین عطا کرتا ہے کہ جہاں تمہاری کوششوں کی حد آجاۓ وہاں ایک اور ہستی تمہاری مدد کے لئے موجود رہتی ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ جہاں معلوم اسباب ختم ہو گئے ہوں وہاں نا معلوم اسباب کا کبھی نہ ختم ہونے والا ذریعہ تمہارا ساتھ دینے کا انتظار کر رہا ہے۔ جہاں تم اپنی طاقت سے کامیاب نہیں ہو سکتے وہاں تمہارا خذا اپنی لا محدود طاقتوں کے ساتھ تم کو کامیاب بنانے کے لئے موجود ہے۔ تو کل کا یہ عقیدہ اہلِ ایمان کا سب سے بڑا سر مایہ ہے۔ وہ آدمی کو یہ یقین عطا کرتا ہے کہ بظاہر حوصلہ شکن حالات میں بھی اس کا حوصلہ نہ ٹوٹے۔ بظاہر نا امیدی کے طوفان میں بھی وہ اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page