Al-Risala · October 1999 · page 33

مشکل میں آسانی

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۳

با وجود وہ سماج میں بہت بڑی خدمت انجام دیتے ہیں۔

یہ سادہ طور پر صرف ایک اخلاقی تعلیم نہیں، یہ فطرت کا اٹل قانون ہے، یہ خدا و ند عالم کا تخلیقی منصوبہ ہے۔ اس حقیقت کا شعور جب کسی سماج کے افراد میں پیدا ہو جائے تو ایسا سماج اپنے کمزوروں کے بارے میں آخری حد تک مہربان ہو جائے گا۔ وہ اپنے کمزوروں کو اپنے معاملات میں برابر کا حصہ دار سمجھے گانہ کہ محض ایک بے فائدہ بوجھ۔

مشکل میں آسانی

قرآن کی سورہ نمبر ۹۴ میں بتایا گیا ہے کہ __ پس مشکل کے بعد آسانی ہے ... بے شک مشکل کے بعد آسانی ہے (الانشراح ۵-۶) ان الفاظ میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے جس کو خدا نے ابدی طور پر پوری دنیا میں قائم کر رکھا ہے۔ آدمی خواہ کسی بھی ملک میں ہو، خواہ وہ کسی بھی زمانے میں ہو، خواہ وہ کسی بھی حالت میں ہو، ہر جگہ اور ہر حال میں وہ فطرت کے اس قانون کو کارفرما پائے گا۔

موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں کسی بھی شخص کے لئے ہمیشہ یکساں حالات نہیں ہوتے۔ مگر قرآن میں بیان کردہ مذکورہ فطری قانون بتاتا ہے کہ کسی بھی حال میں انسان کو بددل یا پست ہمت نہیں ہونا چاہئے۔ کیوں کہ خود خالق عالم کے قائم کردہ اصول کی بنا پر ہر ناموافق صورت حال میں ایک موافق امکان چھپا ہوا ہے۔

مثلاً ایک شخص کا باپ اس کی کم عمری میں انتقال کر جائے تو یہ بظاہر اس کے لئے ایک ناموافق بات ہے۔ مگر اس حادثے کا موافق پہلو یہ ہے کہ باپ کے سائے سے محرومی اس کے اندر خود اعتمادی کی صفت جگانے والی ثابت ہوگی۔ ایک شخص غریب گھر میں پیدا ہو تو بظاہر یہ محرومی کی بات ہے مگر اس کا روشن پہلو یہ ہے کہ ایسا آدمی اپنے حالات کی بنا پر زیادہ محنت کرے گا اور زیادہ بڑی کامیابی حاصل کرے گا، وغیرہ۔

اسی طرح ہر مشکل، ہر محرومی اور ہر حادثے میں ہمیشہ ایک نیا اور بہتر امکان چھپا ہوتا

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page