Al-Risala · October 1999 · page 34

خوبی تلاش کرو

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۴

ہے ۔ نا موافق حالات چیلنج بن کر آدمی کو جھنجھوڑتے ہیں۔ وہ اس کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کرتے ہیں۔ اس طرح ہر ناموافق جھٹکا آدمی کے لئے ترقی کا زینہ بنتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ معمولی انسان سے اوپر اٹھ کر غیر معمولی انسان بن جاتا ہے۔

خوبی تلاش کرو

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا يفرك مومن مومنة ان كره منها خلقا رضى منها آخر (مسند الامام احمد بن حنبل ۳۳۹/۲) یعنی کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ رکھے، اگر اس کے اندر کوئی ناپسندیدہ خصلت ہو گی تو اسی کے ساتھ اس کے اندر کوئی پسندیدہ خصلت بھی موجود ہوگی۔ اس حدیث میں مومن اور مومنہ سے مراد مومن شوہر اور مومن بیوی ہیں۔

یہ اللہ تعالیٰ کا تخلیقی نظام ہے کہ کسی ایک مرد اور عورت کو تمام انسانی خوبی نہیں دی جاتی۔ ایک مرد اگر جسمانی حیثیت سے زیادہ طاقت ور ہو تو وہ دماغی صلاحیت کے اعتبار سے کم ہوگا اسی طرح اگر کوئی مرد دماغ کے اعتبار سے غیر معمولی صلاحیت کا حامل ہو تو وہ جسم کے اعتبار سے ایک کمزور انسان ہو گا۔ اسی طرح ایک عورت کو اگر صورت کے اعتبار سے زیادہ حصہ ملا ہو تو سیرت کے اعتبار سے وہ زیادہ خصوصیات کی حامل نہ ہوگی۔ اور اگر وہ سیرت میں ممتاز ہو تو صورت کے اعتبار سے وہ کوئی ممتاز خاتون نہ ہوگی۔ اس میں استثناء ہو سکتا ہے مگر عام اصول یہی ہے۔ فطرت کا یہی اصول ہے جس کی طرف مذکورہ حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جس میں ہر شادی شدہ جوڑے کے لئے کامیابی کا راز موجود ہے۔ شادی شدہ زندگی کی ناکامی کا سبب اکثر حالات میں یہ ہوتا ہے کہ زوجین میں سے کوئی ایک دوسرے کو بظاہر اپنی مرضی کے مطابق نہیں پاتا اس لئے وہ اس سے بدل ہو جاتا ہے۔ مگر مذکورہ اصول کے مطابق ، اس بدلی کا سبب یہ نہیں ہوتا کہ فریق ثانی فی الواقع ویسا ہی ہے جیسا کہ فریق اول اس کو سمجھ رہا ہے۔ اس طرح کے معاملے میں عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ فریق اول کی رائے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page