Al-Risala · October 1999 · page 39

مستحکم سماجی نظام

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۹

کی بنا پر وہ یہاں اشتراکی ڈکٹیٹر شپ قائم کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ اس لئے انھوں نے نام نہاد پبلک سیکٹر کے ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی جینے کی اجازت دے دی۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ۱۹۹۱ء میں جب سوویت یونین ٹوٹا تو وہاں کی اقتصادیات کامل دیوالیہ پن کی شکار ہو گئیں۔ لیکن انڈیا میں ہم پاتے ہیں کہ اگر چہ ہمارے یہاں سوشلسٹ حکمرا نوں کا قائم کردہ پلک سیکٹر سوویت یونین ہی کی طرح مکمل طور پر ناکام ہو گیا اس کے باوجود ملک کی اقتصادیات دیوالیہ پن کا شکار ہونے سے بچی ہوئی ہیں۔ اس کا کریڈٹ کسی بھی درجہ میں ہمارے حکمرا نوں کو نہیں جاتا۔ یہ تمام تر اسی پرائیویٹ سیکٹر کا کارنامہ ہے جس کو آزادی کے بعد ہمارے سوشلسٹ حکمرانوں نے صرف ایک ناگزیر برائی کے طور پر باقی رکھا تھا۔

ہندوستان میں پچھلے کئی سو سال سے ایک مضبوط تجارتی طبقہ موجود تھا۔ وہ اس پوزیشن میں تھا کہ شہنشاہ اور نگ زیب اور ایسٹ انڈیا کمپنی کو قرض دے سکے۔ یہ بزنس کمیونٹی مسلسل قائم رہی۔ آزادی کے دور میں اس کی نئی نسل نے بڑے پیمانہ پر جدید تعلیم حاصل کر لی اور اس طرح اپنے تجارتی ڈھانچہ کو جدید معیار کے مطابق بنا کر اپنے آپ کو مزید مستحکم کر لیا۔ دور آزادی کے حکمرانوں نے اس معاملہ میں کوئی بھی مثبت کام نہیں کیا۔ اس مدت میں ان کا واحد کار نامہ یہ ہے کہ فلاح عامہ کے نام پر انھوں نے بے شمار مصنوعی قوانین بنائے اور اس طرح سوشلسٹ جنون کے تحت تجارتی طبقہ کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ مگر یہ طبقہ اپنی سخت جانی کا ثبوت دیتے ہوئے پھر بھی زندہ رہا۔ دراصل ملک کا یہی تجارتی طبقہ (private sector) وہ سب سے بڑا عامل ہے جس نے حکمرانوں کی بد ترین نااہلی کے باوجود ملک کو اقتصادی دیوالیہ پن سے بچایا ہے۔

اس سلسلہ میں دوسرا دگار عامل وہ ہے جس کو زرعی سیکٹر کہا جاتا ہے۔ ہندوستان میں سیکڑوں سال سے مضبوط زرعی نظام قائم تھا۔ یہ گاؤں کے کسانوں نے اپنی ذاتی محنت سے قائم کیا تھا۔ سابق سوویت یونین نے وہاں کے زرعی سیکٹر کو بے دردانہر طور پر نام نہاد سرکاری کنٹرول

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page