مستحکم سماجی نظام
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۰
میں لے لیا تھا۔ ہندوستان کے سوشلسٹ حکمران اس پوزیشن میں نہ تھے کہ وہ ملک کی اسی فیصد کسان آبادی پر اپنا سوشلسٹ بلڈوزر چلا سکیں۔ چنانچہ یہ زرعی سیکٹر حکمرانوں کی مدد کے بغیر خود اپنی طاقت پر قائم رہا۔
ہندوستان سوویت یونین جیسی اقتصادی تباہی سے بچا ہوا ہے۔ اس کا دوسرا بڑا سبب اسی زرعی سیکٹر کا زندہ رہنا ہے۔ اس زرعی سیکٹر نے نہ صرف ملک کو غذائی اعتبار سے خود کفیل بنایا بلکہ بر آمدات کی صورت میں وہ ملک کے لئے قیمتی زر مبادلہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہمارے ہمارے حکمراں سوشلسٹ ریفارم کے نام پر اس زرعی سیکٹر کو سرکاری سیکٹر بنانے میں کامیاب ہو جاتے تو یقینی طور پر ملک کا وہی اقتصادی انجام ہوتا جو سوویت یونین کے ساتھ پیش آیا ہے۔
تیسرا شعبہ جو نسبتاً کمزور حالت میں قائم ہوا وہ تعلیم کا شعبہ ہے۔ تعلیم کا رواج ہندوستان میں اگرچہ قدیم زمانہ سے تھا مگر وہ صرف خاص طبقوں تک محدود تھا۔ مسلمان جب ہندوستان میں آئے تو انہوں نے ہر مسجد کو مدرسہ کی صورت دے کر تعلیم کو کافی پھیلا دیا۔ بہت سے ہندو مثلاً ڈاکٹر راجندر پرساد نے اسی نظام کے تحت اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انگریز ملک میں جدید تعلیم لے آئے ۔ آزادی (۱۹۴۷) کے بعد ملک میں ہزاروں کی تعداد میں نئے تعلیمی ادارے قائم ہو گئے۔ انھیں مختلف کوششوں کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ملک میں پچاس فیصد لوگ کم یا زیادہ تعلیم یافتہ دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تعلیمی ڈھانچہ ملک کو آخری تباہی سے بچانے میں بہت کامیاب ثابت ہوا ہے۔ چوتھا نظام، اقدار کے نظام (Value System) کا ہے۔ آزادی کے بعد ہمارے لیڈروں نے پولیتیکل کرپشن کا جو طوفان برپا کیا، اس کے بعد ملک کا یہ حال ہونا چاہئے تھا کہ وہ آخری حد تک اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو جائے۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ آج بھی ملک میں اخلاقی اقدار کی روایات کسی نہ کسی درجہ میں زندہ اور قائم ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو قومی اور سماجی زندگی کے تمام شعبے اس حد تک تباہ ہو چکے ہوتے کہ بازار میں چلنا اور ٹرینوں میں سفر کرنا بھی عام انسان
‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues