Al-Risala · October 1999 · page 49

مستحکم سماجی نظام

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۹

میرٹھ کے مولانا شکیل احمد قاسمی نے دار العلوم کے دار الافتاء سے جاری شدہ ایک فتویٰ برائے اشاعت روانہ کیا ہے۔ اس پر تین مفتی صاحبان کے دستخط ہیں۔ یہ فتویٰ ایک استفتائے کے جواب میں ہے۔ جناب سید محمد ظفر نعیم (۱۳۴۱ھ، پردہ فیاض علی، میرٹھ) نے اس تصویری قضیہ کے بارے میں ایک استفتاء دارالعلوم دیوبند کے دار الافتاء کے نام روانہ کیا تھا۔ جس کی کافی وضاحت الرسالہ کے پچھلے شماروں میں آچکی ہے۔ اس استفتاء میں پوچھا گیا تھا کہ دہلی کے ہندی ہفت روزہ ”پانچ جنید“ (۲۹ نومبر ۱۹۹۸) میں مولانا وحید الدین کی جو تصویر چھپی ہے اس کا شرعی حکم کیا ہے۔ کیا یہ فوٹو ان کی مسلمان ہونے کی حیثیت پر سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔ دار العلوم کے دار الافتاء کی طرف سے مستفتی کو جو جواب روانہ کیا گیا تھا اس کی نقل یہ ہے۔

فتویٰ دار العلوم دیو بند نمبر ۱۱۲۳ الجواب و ما بعد التوفيق: محض کسی کی قیاس آرائی پر مولانا وحید الدین خاں پر کوئی شرعی حکم لگانا درست نہیں۔ آپ براہِ راست مولانا موصوف سے دریافت کریں کہ اخبار ”پانچ جنید“ والے نے جو کچھ ان کے بارے میں تصویر دی ہے یہ کہاں تک صحیح ہے۔ یہ حقیقت ہے یا محض بدنام کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ اور حقیقت ہے تو کہاں تک۔ کفر کا فتویٰ لگانا بہت اہم ہے۔ اسطرح انکل پچو اور قیاس آرائی پر یہ حکم لاگو نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جب تک خود ان کے قلم سے اور ان کے دستخط سے تصدیق نہ ہو۔ فقط الجواب صحیح:

واللہ اعلم مفتی کفیل الرحمن نشاط عثمانی حبیب الرحمن عفا اللہ عنہ مفتی سید عبداللہ کشمیری مفتی دار العلوم دیو بند ھ۱۴۱۹/۹/۲۲

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page