نئی کتابیں
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۹
۱۹۴۷ کے بعد کے انڈیا میں مسلمانوں کے درمیان کم از کم دو شخصیتیں ایسی تھیں جو پورے معنوں میں قائدانہ اوصاف کی حامل تھیں ۔ ایک مولانا سید حسین احمد مدنی ، دوسرے مولانا ابوالکلام آزاد۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہ دونوں ۱۹۴۷ سے پہلے کے ہندوستان میں سراپا سرگرم بنے ہوئے تھے ۱۹۴۷ کے بعد کے ہندوستان میں وہ تقریباً خاموش ہو کر رہ گئے۔ ان کے قائدانہ اوصاف کا کوئی فائدہ ۱۹۴۷ کے بعد کے ہندوستان کو نہیں ملا۔
ان کے بعد اگرچہ بہت سے لوگ مسلم قیادت کے میدان میں سرگرمی دکھانے کے لئے اٹھے مگر وہ حقیقۃً اس عربی مثل کا مصداق تھے کہ : کبرنی موت الکبراء (بڑوں کی موت نے مجھ کو بڑا بنا دیا)
آزادی کے بعد کے دور میں مسلمانوں کے درمیان بہت سی قیادتیں اٹھیں مگر وہ سب کی سب بے نتیجہ اچھل کود کے ہم معنی بن گئیں۔ اس سلسلہ میں غالباً پہلی نمایاں تحریک وہ ہے جو اتر پردیش میں اٹھی۔ اس کا مقصد ریاست میں اردو کو ثانوی درجہ دلانا تھا۔ یہ ایک طوفان خیز تحریک تھی۔ کثیر تعداد میں مسلمانوں نے شہر شہر اور گاؤں گاؤں گھوم کر چودہ لاکھ دستخطوں کا ایک ڈھیر اکٹھا کیا۔ کاغذوں کا یہ ڈھیر ٹرکوں پر لاد کر دہلی لایا گیا تاکہ اس کو صدر جمہوریہ ہند کی خدمت میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے۔
یہ تحریک اپنے سارے جوش وخروش کے باوجود کتنی زیادہ بے حقیقت تھی اس کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی طور پر کیا جا سکتا ہے۔ پریذیڈنٹ آف انڈیا کے سامنے اردو کی درخواست پیش کرنے کی یہ مہم جس کمیٹی کے تحت چلائی گئی اس کے صدر ڈاکٹر ذاکر حسین (وفات ۱۹۶۹) تھے ۔ بعد کو یہی ڈاکٹر ذاکر حسین خود پریذیڈنٹ آف انڈیا کی کرسی پر پہنچ گئے مگر وہ اردو کی اس درخواست کے بارے میں کچھ بھی نہ کر سکے۔ اس کا سبب یہ نہیں تھا کہ صدر ذاکر حسین اس کو کر سکتے تھے اور انھوں نے نہیں کیا، اس کا سبب یہ تھا کہ یہ کام حقیقی حالات کے اعتبار سے ہونے والا ہی نہ تھا اس
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues