Al-Risala · November 1999 · page 5

نئی کتابیں

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۵

لئے وہ نہیں ہوا۔

۱۹۴۷ کے بعد بار بار مسلمانوں ہند کے درمیان اس قسم کی جذباتی تحریکیں اٹھائی جاتی رہی ہیں جویا تو بے نتیجہ رہیں یا ان کا معکوس نتیجہ برآمد ہوا۔

مثلاً آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کے لئے اٹھی۔ مگر وہ ایک فی صد بھی فسادات کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ مسلم یونیورسٹی کو مسلم کردار دینے کے لئے طوفان خیز تحریک اٹھی مگر وہ ظاہری کامیابی کے باوجود مسلم یونیورسٹی کے معیار کو صرف پست کرنے کا ذریعہ بنی۔ ریزرویشن کی پر جوش تحریک نے مسلمانوں کو ریزرویشن تو نہیں دیا البتہ ان کے اندر سے اس جذبہ کو چھین لیا کہ وہ محنت کر کے آگے بڑھیں ۔ شاہ بانو تحریک کی بظاہر شاندار کامیابی کا انجام صرف یہ ہوا کہ ہندو فرقہ پرست طاقتیں از سر نو زندہ ہو گئیں ۔ بابری مسجد تحریک کا یہ بر عکس انجام ہوا کہ ہندوؤں کا انتہا پسند طبقہ شدت سے بھڑک اٹھا یہاں تک کہ آپے سے باہر ہو کر اس نے بابری مسجد کو ڈھادیا۔

جو لوگ چیزوں کو ظاہری سطح (face value) پر لینے کے عادی ہیں وہ صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ کچھ غضبناک ہندوؤں نے بابری مسجد کو ڈھادیا مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ بابری مسجد کو مسٹر ہندو نے نہیں ڈھایا بلکہ مسٹر ایگو نے ڈھایا۔ اور مسٹر ہندو کو مسٹر ایگو بنانے والے خود مسلمانوں کے نااہل قائدین تھے۔

جہاں تک میرا خیال ہے، ۱۹۴۷ کے بعد ہندستانی مسلمانوں کے درمیان کوئی ایسی قابل ذکر تحریک نہیں اٹھی جس کو مثبت معنوں میں تعمیری تحریک کہا جاسکے۔ اور موجودہ حالات میں غالباً ایسا ہونا ممکن بھی نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہندستانی مسلمانوں کی غیر حقیقت پسندانہ سوچ ہے۔ وہ اپنے آپ کو غیر واقعی حد تک بر تر اور اپنے ہم وطنوں کو غیر واقعی حد تک کمتر سمجھتے ہیں۔ جو لوگ اس طرح کی منفی نفسیات میں مبتلا ہوں ان کے درمیان صرف رد عمل کی تحریکیں ابھر سکتیں ہیں نہ کہ مثبت معنوں میں کوئی نتیجہ خیز تحریک۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page