دین کے نام پر بے دینی
الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۴
دین کے نام پر بے دینی
مدنی دور میں ایک بار ایک خلاف عادت واقعہ پیش آیا۔ اس کا تعلق حضرت عائشہ صدیقہؓ سے تھا۔ اس واقعہ کو خود ساختہ مفہوم دے کر کچھ لوگوں نے ایک بیہودہ افسانہ بنایا۔ یہ لغو افسانہ فوراً ہی سارے مدینہ میں پھیل گیا۔ اپنے خیال میں وہ اشاعت حق کر رہے تھے مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف اشاعت باطل تھی۔ چنانچہ وہ کیفیت ہو گئی جس کو قرآن (النور ۱۵) میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: جب کہ تم اس جھوٹ کو اپنی زبانوں سے نقل در نقل کر رہے تھے (ترجمہ مولاناشرف علی تھانوی) یہ فتنہ صرف اس وقت ختم ہوا جب کہ سورہ النور اتری اور براہ راست آسمانی وحی کے ذریعہ اس کی تردید کر دی گئی۔
اس سلسلہ میں سورہ النور میں مسلمانوں کو کچھ ہدایات دی گئیں تاکہ وہ آئندہ اس قسم کی مجرمانہ غلطی کا اعادہ نہ کریں۔ ان میں سے ایک خاص ہدایت یہ تھی۔ ۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بات سنی تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کی بابت خیر کا گمان کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ تو ایک کھلا ہوا بہتان ہے (النور ۱۲) اس کی تفسیر میں ابن کثیر نے لکھا ہے۔ ۔ یعنی اس بات کو وہ خود اپنے اوپر قیاس کرتے۔ پس اگر وہ خود ان کے لئے مناسب نہ تھا تو ام المومنین زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس سے بری ہوں (تفسیر ابن کثیر ۳ ۲۷۳)
جب کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان کے بارے میں کوئی بدگمانی پیدا ہو تو پہلے ہی مرحلہ میں یہ سوچ کر اس کو رد کر دینا چاہیے کہ کیا میں ایسا کر سکتا ہوں اور جب اس کا ضمیر یہ کہے کہ میں تو ایسا نہیں کروں گا تو اسی پر قیاس کر کے سمجھ لینا چاہیے کہ دوسرے مسلمان نے بھی یقیناً ایسا نہیں کیا ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے مواقع پر ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون واقعی صاحب ایمان ہے اور کون ایمان کا صرف دعویدار ہے۔ کسی کے دین پر قائم ہونے کا ثبوت یہ نہیں ہے کہ وہ انقلاب خیر کا نعرہ لگاتا ہو۔ اس کا اصل ثبوت یہ ہے کہ وہ خود عملاً ظن خیر کے مذکورہ قرآنی اصول پر قائم ہو۔ انقلاب خیر کا نعرہ لگانا
‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues