Al-Risala · February 1999 · page 5

دین کے نام پر بے دینی

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۵

صرف دین کے نام پر لیڈری ہے اور ظن خیر کے اصول پر خود قائم ہونا حقیقی معنوں میں دین خداوندی کی پیروی حضرت عائشہ صدیقہ کا یہ قصہ تذکیر القرآن یا تفسیر کی دوسری کتابوں میں سورہ النور کی تفسیر کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں اس کی تفصیلات نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ حضرت عائشہ معروف طور پر مدینہ کی ایک باعزت خاتون تھیں ۔ ان کی پوری زندگی اسلام کی خدمت میں گزری تھی۔ مدینہ کے کچھ لوگوں نے آپ کے ایک واقعہ کو لے کر اس کو شوشہ بنایا اور اسے آپ کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کیا۔ مگر انھیں لوگوں نے کبھی یہ نہیں کیا تھا کہ وہ حضرت عائشہ کی اعلیٰ دینی خدمات کا چرچا کریں۔ ان کی مجلسیں حضرت عائشہ کے تذکرہ سے اس طرح خالی تھیں جیسے کہ مدینہ میں نہ کوئی عائشہ ہیں اور نہ ان کی کوئی دینی خدمات۔ مگر جیسے ہی انھیں حضرت عائشہ کے بارہ میں ایک ایسی بات ملی جس کو خود ساختہ مفہوم دے کر وہ اس کو آپ کے خلاف استعمال کر سکیں تو بجلی کی سی تیزی کے ساتھ ان کا پورا گروہ متحرک ہو گیا۔ اس نے اپنے تمام ذرائع کو استعمال کر کے اس جھوٹے قصہ کو پھیلایا۔ انھوں نے ایک ایک شخص کے کان میں اس کو ڈال کر اسے حضرت عائشہ سے بدگمان کرنے کی کوشش کی۔ حتیٰ کہ پورے مدینہ کو ان کے خلاف بدگمانیوں اور افواہوں سے بھر دیا۔ اپنے خیال کے مطابق، یہ لوگ ایک ’’واقعہ‘‘ کی اشاعت کر رہے تھے مگر اللہ کے نزدیک وہ بدترین قسم کے مجرم تھے۔ ایسا کر کے وہ خدا کے دین کی کوئی خدمت نہیں کر رہے تھے بلکہ صرف شیطان کے مقصد کو پورا کر رہے تھے۔ ایک شخص جو اللہ کی پکڑ سے ڈرتا ہو، اس پر فرض کے درجہ میں لازم ہے کہ وہ حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کرے نہ کہ شوشوں کی بنیاد پر۔ اگر کبھی کوئی غلط فہمی ہو جائے تو متعلقہ شخص سے مل کر اپنی غلط فہمی کورفع کیا جائے نہ کہ اس کو حقیقت سمجھ کر اس کا عمومی چرچا کیا جانے لگے۔ اسی قسم کے کردار کا نام منافقانہ کردار ہے اور قرآن کے مطابق، منافقانہ کردار والے لوگوں کے لئے کافروں سے بھی زیادہ سخت سزا مقرر ہے، الا یہ کہ وہ توبہ کریں اور کھلے طور پر اپنی مجرمانہ روش کا اقرار کر کے متعلقہ اشخاص سے معافی مانگیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page