توحید اور شرک
الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۷
توحید اور شرک
قرآن خدا کی کتاب ہے۔ قرآن خدا کی مرضی کا مستند اعلان ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ انسان کے لئے کون سا راستہ فلاح کا راستہ ہے اور کون سا راستہ خسران کا راستہ۔ انسانی زندگی کے دستور کے لئے قرآن ہی واحد مستند ماخذ ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان حالت امتحان میں ہے۔ یہ امتحان کس چیز میں ہے اسی کو بتانے کے لئے خدا نے قرآن اتارا۔
قرآن کے مطابق، شرک کا عقیدہ تمام انسانی برائیوں کی جڑ ہے۔ اس کے مقابلہ میں توحید کا عقیدہ تمام انسانی خوبیوں کا سر چشمہ ہے۔ قرآن میں واضح الفاظ میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ۔۔۔ بے شک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اُس کے ساتھ شرک کیا جائے۔ لیکن اس کے علاوہ جو کچھ ہے اس کو جس کے لئے چاہے گا بخش دے گا۔ اور جس نے کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا طوفان باندھا۔ (النساء- ۴۸)
توحید کی حقیقت
توحید کا مطلب یہ ہے کہ خدا کو ایک مانا جائے ۔ یہ یقین کیا جائے کہ تمام طاقتیں اور ہر قسم کے اختیارات صرف ایک خدا کو حاصل ہیں۔ وہی تنہا عبادت کا مستحق ہے۔ عبادت کی قسم کا کوئی بھی فعل خدا کے سوا کسی اور کے لئے جائز نہیں۔ خدا ہی انسان کی مرادیں اور حاجتیں پوری کرتا ہے۔ خدا ہی کائنات کا نظام چلا رہا ہے۔ برتری صرف ایک خدا کا حق ہے ، کسی اور کو اس دنیا میں حقیقی برتری حاصل نہیں۔ ایسا ہر عقیدہ باطل ہے جس میں ان تمام پہلوؤں میں خدا کے سوا کسی اور کو شریک کیا جائے۔
قرآن میں توحید کے عقیدہ کو ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے ۔ ۔ اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے، سب کا تھامنے والا۔ اس کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش
‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues