Al-Risala · February 1999 · page 8

توحید کی حقیقت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۸

کرے ۔ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے، مگر جو وہ چاہے۔ اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے۔ وہ تھکتا نہیں ان کے تھامنے سے اور وہی ہے بلند مرتبہ والا اور بڑا (آل عمران ۲۵۵) خدا کی پرستش کرنا اپنے خالق و مالک کی پرستش کرنا ہے جو واقعی طور پر انسان کی پرستش کا حق دار ہے۔ اس کے برعکس کوئی آدمی جب غیر خدا کے آگے سر جھکاتا ہے تو وہ اپنے جیسی ایک مخلوق کے آگے سر جھکاتا ہے جو اس کا حقدار نہیں کہ اس کے آگے سر جھکایا جائے۔ خدا کی پرستش انسان کو عظمت عطا کرتی ہے اور غیر خدا کی پرستش اس کو پستی میں گرا دیتی ہے۔ خدا کی پرستش انسان کو حقیقت پسند بناتی ہے اور غیر خدا کی پرستش اس کو توہمات میں مبتلا کر دیتی ہے۔ خدا کی پرستش سے معرفت حق کے دروازے کھلتے ہیں اس کے برعکس آدمی جب غیر خدا کی پرستش کرتا ہے تو وہ حق کی معرفت کے دروازوں کو اپنے اوپر بند کر لیتا ہے۔ توحید صرف ایک ہے، مگر شرک کی ہزاروں قسمیں ہیں۔ موحد انسان کا مرکز توجہ اور مرکز عبودیت صرف ایک خدا ہوتا ہے۔ وہ ہر حال میں اور اپنی پوری زندگی میں اسی ایک خدا کو اپنا سب کچھ بنائے ہوئے رہتا ہے۔ مگر مشرک انسان کا کوئی ایک مرکزی نقطہ نہیں ہو تا۔ یہی وجہ ہے کہ شرک کی بے شمار قسمیں بن جاتی ہیں۔ ستارہ پرستی، زمین پرستی، بت پرستی، ارباب پرستی، قبر پرستی سے لے کر نفس پرستی، دولت پرستی، اقتدار پرستی، مفاد پرستی، اولاد پرستی وغیرہ یہ تمام چیزیں درجہ بدرجہ غیر اللہ کی پرستش میں شامل ہیں۔ اور قرآن میں ان کی کھلی مذمت کی گئی ہے۔ موحد انسان وہ ہے جو ہر قسم کی بر تر حیثیت صرف ایک خدا کو دے۔ اسی سے اپنی مراد مانگے۔ اسی کے سامنے مراسم پرستش بجالائے، اسی پر سب سے زیادہ بھروسہ کرے، اسی کو ہر اعتبار سے بر تر حیثیت دے۔ پرستش کسی سے تعلق کے اظہار کا آخری درجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پرستش کی تمام صورتیں صرف ایک خدا کا حق ہیں ہر پرستش کی نوعیت کی کوئی چیز کسی غیر

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page