مذہب کی حقیقت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۹
ہے۔ جب آدمی ایک چیز کو سچائی کے طور پر دریافت کرتا ہے تو وہ اس کے لئے ایک یقین کی دریافت کے ہم معنی ہوتی ہے۔ وہ اس پر اعتماد جذبہ سے سرشار ہو تا ہے کہ میں نے حقیقت اعلیٰ کو پالیا ہے۔ میں نے زندگی کے جنگل میں اس واحد راستہ کو معلوم کر لیا ہے جو مجھے منزل مقصود تک پہنچانے والا ہے۔
مذکورہ قسم کا مذہب کسی آدمی کو عین اس قیمتی چیز سے محروم کر دیتا ہے جو مذہب ہی سچائی کا اصل مقصود ہے، یعنی اعتماد و یقین۔ اس دنیا میں انسان کی پہلی ضرورت یہ ہے کہ وہ یہ جانے کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے۔ وہ انسان اور کائنات کے بارہ میں ایک واضح اور غیر مبہم تصور رکھتا ہو۔ وہ اس یقین پر کھڑا ہوا ہو کہ اس نے زندگی کے گہرے رازوں کو دریافت کر لیا ہے۔ سچا مذہب حقیقت اسی دریافت کا نام ہے۔
اگر آپ ایک لمبے سفر پر جا رہے ہوں تو آپ کو اپنی منزل کا واضح اور متعین شعور ہونا چاہئے ۔ اس یقینی شعور کے بغیر جو آدمی سفر پر روانہ ہو جائے وہ صحیح معنی میں ایک مسافر نہ ہوگا بلکہ ایک بھٹکا ہوا انسان ہوگا۔ اس کے سفر کا نہ کوئی آغاز ہے اور نہ کوئی اختتام۔ اس قسم کا سفر مختلف وادیوں میں بھٹکنا ہے نہ کہ حقیقتاً سفر طے کرنا۔ یہی معاملہ مذہب کا ہے۔ حقیقی مذہب وہ ہے جو آدمی کے لئے سچائی کی دریافت بن جائے۔ جو آدمی کو وہ فکری سرمایہ دے سکے جس کو اعتماد کہا جاتا ہے۔ ہر آدمی فطری طور پر اس کا ضرورت مند ہے کہ وہ ایک ایسی صداقت کو پائے جس پر وہ یقین کر سکے۔ مذہب آدمی کی اسی طلب کا جواب ہے۔ آدمی کا یہ احساس کہ اس نے سچے مذہب کو پالیا ہے، اس کو لازوال یقین کی دولت عطا کرتا ہے۔ "ہر مذہب سچا ہے" کا تصور خود مذہب کی نفی ہے۔ ایسا تصور مند ہب کے لئے کبھی مطلوب یقین کا سر چشمہ نہیں بن سکتا۔
جہاں تک سماجی ہم آہنگی کا تعلق ہے، اس کے حصول کا ذریعہ یہ نہیں ہے کہ یہ کہا جائے کہ ہر مذہب سچا ہے۔ سماجی ہم آہنگی کے حصول کا ذریعہ یہ ماننا ہے کہ ہر انسان قابل احترام ہے۔ سماجی ہم آہنگی کی بنیاد احترام انسانی کے تصور پر قائم ہوتی ہے نہ کہ وحدت مذاہب کے تصور پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues