تبلیغ کیا ہے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۱
حیثیت سے جانتے ہیں۔
حال میں جناب ابو البرکات علوی کی ملاقات نٹھو صاحب سے ہوئی۔ ابو البرکات صاحب نے ان سے پوچھا کہ آپ کو کبھی شراب پینے کا جی نہیں چاہتا۔ انہوں نے جواب دیا کہ تبلیغ والوں نے جو بات بتائی وہ مجھ کو شراب سے بھی زیادہ اچھی لگتی ہے۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ دعوت و تبلیغ کی حقیقت کیا ہے۔ تبلیغ نام ہے دوسرے کے درد کو اپنے سینہ میں محسوس کرنے کا۔ تبلیغ یہ ہے کہ آدمی آخری حد تک اس کا خیر خواہ ہو جائے جس کی وہ اصلاح چاہتا ہے۔ دوسرے شخص کی برائی کو دیکھ کروہ اس سے نفرت نہ کرے بلکہ وہ اور زیادہ اس کی اصلاح کا حریص بن جائے۔ مدعو کے منہ سے شراب کی بدبو آرہی ہو پھر بھی وہ اس سے اپنا رخ نہ پھیرے۔ وہ بات سننے سے انکار کر دے تب بھی وہ اس سے نا امید نہ ہو۔
تبلیغ دراصل بھٹکے ہوئے لوگوں کا خیر خواہ بننے کا دوسرا نام ہے۔ سچے داعی کا حال یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف وہ اپنے مدعو کی اصلاح کے لئے اپنی ساری کوششیں صرف کر دیتا ہے۔ دوسری طرف وہ مدعو کے لئے مسلسل دعائیں کرتا رہتا ہے تاکہ اس کی اپنی کوشش میں جو کمی رہ گئی ہے خدا اس کی تلافی کر دے اور اپنی مدد سے اس کی کوششوں کو تکمیل تک پہنچادے۔ تبلیغ کی شریعت میں نفرت حرام ہے۔ جہاں دوسرے لوگ غصہ سے بھڑک اٹھتے ہیں، داعی وہاں یک طرفہ طور پر لوگوں کو معاف کر دیتا ہے۔ جہاں دوسرے لوگ منفی قسم کی جوابی کارروائی کرنے لگتے ہیں وہاں داعی آخری حد تک مثبت روش پر قائم رہتا ہے۔ جہاں دوسرے لوگ صرف اپنے جذبات کے مجروح ہو ہونے کو جانتے ہیں، وہاں داعی کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ دوسروں کے جذبات مجروح نہ ہونے پائیں۔ خلاصہ یہ کہ دوسرے لوگ اگر اپنے آپ میں جیتے ہیں تو داعی اس لئے جیتا ہے کہ وہ دوسروں کے لئے بھلائی کا دروازہ کھول سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues