Al-Risala · December 1999 · page 13

خدا کی عبادت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۳

خدا کی عبادت

ایک حدیث میں ہے کہ خدا کا فرشتہ انسان کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آیا۔ فرشتے نے آپ سے سوال و جواب کے انداز میں گفتگو کی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو دین کے بارہ میں بتایا جائے۔ ایک سوال یہ تھا کہ احسان کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ تم خدا کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ اور اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ فتح الباری (۱۳۷/۱) عبادت در اصل اس عمل کا نام ہے جو خدا کی معرفت سے پیدا ہوتا ہے۔ جب ایک آدمی خدا کو گہرائی کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کا پورا وجود خدا کے آگے جھک جاتا ہے۔ وہ پورے معنی میں خدا کا پر ستارہ بن جاتا ہے۔ اس کے صبح و شام خدا کی یاد میں گزرنے لگتے ہیں۔ اس کی داخلی کیفیت خارجی پرستش کی صورت میں ظاہر ہونے لگتی ہے۔ وہ سراپا خدا کا عبادت گذار بندہ بن جاتا ہے۔ اس عبادت گذاری کے دو درجے ہیں۔

پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان کی معرفت اتنی زیادہ گہری ہو کہ اس کا یہ حال ہو جائے گویا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔ ادراک کی شدت کی بنا پر اس کو مشاہدہ جیسے تجربات ہونے لگیں۔ غیب میں ہوتے ہوئے خدا اس کے لئے ایک موجود حقیقت بن جائے۔ بظاہر نہ دیکھنے کے با وجود اس کو محسوس ہونے لگے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔ اس کیفیاتی شدت کے تحت جو عبادت کی جائے اس میں انسان یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ وہ جس خدا کی عبادت کر رہا ہے گویا کہ وہ ایک زندہ ہستی کے طور پر اس کے سامنے موجود ہے۔

اس کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ آدمی کو خدا کی موجودگی کا ایسا زندہ احساس تو نہ ہو مگر یقین کی بناپر اس کے دل و دماغ میں یہ تصور چھایا ہوا ہو کہ اگر چہ خود میں تو خدا کو نہیں دیکھ رہا ہوں مگر خدا بلا شبہہ مجھ کو پوری طرح دیکھ رہا ہے۔ خدا کے حاضر و ناظر ہونے کا یقین اس کو خدا کے آگے جھکا دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues

Printed page