Al-Risala · December 1999 · page 14

مسئولیت نہ کہ خودی

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۴

مسئولیت نہ کہ خودی

ایک صاحب نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دوبارہ اٹھانے کے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز یہ ہے کہ ان کے اندر خودی اور خود شناسی کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل الٹی تدبیر ہے۔ مسلمانوں کی زندگی کا راز نفی خودی میں ہے نہ کہ اثبات خودی میں۔ خودی آدمی کی انانیت کو ابھارتی ہے، جب کہ آدمی کی اصلاح کے لئے ایسا نظریہ چاہیے جس سے آدمی کی انا مغلوب ہوتی ہو۔

انھوں نے کہا کہ نفی خودی تو خود کشی کے ہم معنی ہے۔ کیوں کہ اس سے آدمی کے اندر عمل کے جذبات بیدار نہیں ہوتے۔ اس سے منفعلانہ قسم کی درویشی پیدا ہو سکتی ہے۔ فعال اوصاف اس کے ذریعہ پیدا نہیں کئے جاسکتے۔ میں نے کہا کہ آپ کے اس خیال کی بنیاد یہ ہے کہ آپ خودی کا تقابل درویشوں کی انفعالیت سے کر رہے ہیں۔ آپ خودی کا تقابل صحابہ کرام کی فعالیت سے کیجئے ۔ اس وقت آپ اس معاملہ میں صحیح رائے قائم کر سکیں گے۔ صحابہ کرام دنیا کے سب سے زیادہ فعال لوگ تھے۔ مگر ان کی اس فعالیت کا سرچشمہ خود شناسی نہیں بلکہ مسئولیت شناسی تھی۔ وہ احساس مسئولیت سے متحرک ہوئے تھے نہ کہ احساس خویشی سے۔ حقیقت یہ ہے کہ خودی یا خود شناسی کی بنیاد پر جو لوگ متحرک ہوتے ہیں، ان کی ایک حد ہوتی ہے۔ ایک خاص حد پر پہنچ کر ان کی عملیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس احساس مسئولیت سے جو عمل پیدا ہوتا ہے، اس کی کوئی حد نہیں ہوتی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو جس چیز نے متحرک کیا تھا وہ یہ احساس تھا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کی پوچھ ہو گی۔ ابو بکر صدیق و عمر فاروق مثالی درجہ کے فعال افراد تھے۔ مگر ان کی فعالیت کا سر چشمہ یہی مسئولیت کا احساس تھا۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ خودی " جیسے کسی نظریہ نے ان کی صلاحیتوں کو متحرک کیا ہو ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues

Printed page