درس حدیث
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۷
درس حدیث
امام احمد نے ایک دور کا ایک واقعہ اپنی مسند میں نقل کیا ہے۔ عمرو بن عبسہ اپنے آپ کو چوتھا مسلم (ربع الاسلام) کہتے تھے۔ ابو امامہ نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنے کو چوتھا مسلم کیوں کہتے ہیں ۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں نے سنا کہ مکہ میں ایک شخص ظاہر ہوا ہے جو خبریں بتاتا ہے۔ میں اونٹ پر سوار ہو کر مکہ گیا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھپ چھپ کر کام کر رہے ہیں اور آپ کی قوم آپ پر جری ہو گئی ہے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے علاوہ آپ کے ساتھ کون ہے۔ آپ نے کہا کہ ایک آزاد اور ایک غلام (ابوبکر اور بلال)۔ میں آپ پر ایمان لایا۔ اس طرح میں تین کے بعد اسلام میں چوتھا شخص بنا۔
عمرو بن عبسہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ نے آپ کو کن باتوں کے ساتھ بھیجا ہے۔ آپ نے فرمایا، یہ کہ اللہ کو ایک مانا جائے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیا جائے، اور بتوں کو توڑنا اور صلہ رحمی کرنا۔ (بان يوحد الله ولا يشرك به شيئا وكسر الاوثان وصلة الرحم) حیات الصحابہ، ارا۷ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی دعوت کے بنیادی نکات کیا ہیں۔ اس کا پہلا نکتہ توحید ہے۔ اسلام کا پہلا اور اہم ترین تقاضہ یہ ہے کہ آدمی اپنے دل کو ہر قسم کے مشرکانہ خیالات سے پاک کرے اور ایک اللہ کا پرستار بن جائے۔ بت کو توڑنے سے مراد صرف پتھر کے بت کو توڑنا نہیں ہے بلکہ ہر اس چیز کو توڑنا ہے جو بت کا درجہ حاصل کرلے۔
توحید یہ ہے کہ آدمی کی تمام عقیدتوں اور تمام امیدوں کا مرکز ایک خدا بن جائے۔ اور شرک یہ ہے کہ اپنی عقیدتوں اور امیدوں میں خدا کے سوا کسی اور کو شامل کر لیا جائے۔ صلہ رحمی ایک علامت ہے۔ اس سے مراد عام انسانوں کے حقوق ادا کرنا ہے۔ تاہم اس ادائیگی حقوق کی فہرست میں رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی کا نمبر سب سے پہلے آتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues