Al-Risala · December 1999 · page 16

ایمان ایک زلزلہ خیز عقیدہ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۶

ایمان ایک زلزلہ خیز عقیدہ

آپ اپنے گھر میں اپنے بچہ کے ساتھ ہیں۔ اتنے میں زمین سے گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دی۔ دیواریں اور چھتیں ہلنے لگیں۔ کھڑکیاں زور زور سے کھلنے اور بند ہونے لگیں۔ بچہ پوچھتا ہے کہ ابا، یہ کیا چیز ہے۔ آپ اس کو جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بھونچال ہے۔ غور کیجئے کہ اس طوفان خیز لمحہ میں آپ کا یہ کہنا کہ ”یہ بھونچال ہے“ کیا صرف چند الفاظ کا مجموعہ ہوگا۔ آپ یہ جملہ بول کر بھی سکون کے ساتھ اپنے گھر میں بیٹھے رہیں گے۔ یقیناً ایسا نہیں ہو سکتا۔ ”یہ بھونچال ہے“ کا جملہ بظاہر ایک لفظی جملہ ہے۔ مگر وہ ایک عظیم واقعہ کا اعلان ہے۔ وہ ایسا جملہ ہے جس کو زبان سے ادا کرتے ہی آدمی کے اوپر کپکپی طاری ہو جائے۔ ”یہ بھونچال ہے“ کا لفظ بولتے ہی خود آپ کے اندر بھی ایک بھونچال آجائے گا۔ آپ کی پوری شخصیت ہل جائے گی۔ سر سے پیر تک آپ کا پورا وجود ایک نیا وجود بن جائے گا۔ اس کے بعد آپ ایک ایسے انسان بن جائیں گے جو آپ اس سے پہلے نہیں تھے۔

اسی طرح آپ اپنے دوست کے ساتھ ایک جنگل میں چل رہے ہیں۔ اچانک آپ دیکھتے ہیں کہ پاس کی جھاڑی میں ایک خوفناک شیر کھڑا ہوا ہے۔ آپ اپنے دوست سے کہتے ہیں کہ ”یہ ایک شیر ہے“ یہ جملہ بھی اس وقت محض ایک لفظی کلمہ نہیں ہو گا بلکہ وہ ایک طوفان خیز تجربہ ہوگا۔ آپ کے جسم میں خون کی گردش خون کا طوفان بن جائے گی۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہوگا جو آپ کو اندر سے باہر تک ایک نیا انسان بنادے گا۔ اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ جب ایک انسان کہتا ہے کہ لا الہ الا اللہ تو اس کا مطلب کیا ہے۔ یہ محض چند الفاظ کو اپنی زبان سے دہرانا نہیں ہے بلکہ یہ اس خدا کی موجودگی اور کار فرمائی کا اقرار کرنا ہے جو شیر کا اور بھونچال کا اور ہر چیز کا خالق ہے۔ کیسی عجیب بات ہوگی اگر شیر اور زلزلہ کی موجودگی کا اقرار آدمی کے اندر طوفان برپا کر دے اور خداوند ذوالجلال کی موجودگی کا اقرار آدمی کے اندر کوئی ہلچل برپا نہ کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues

Printed page