حقائق پر اعتماد
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۹
رہے گی وہ حقیقت ہے۔ آپ کا یہ غیر متزلزل یقین کہ میں خدا کا رسول ہوں، یہی اس بات کی کافی ضمانت تھا کہ آپ ایک ایسی چیز کو کوئی اہمیت نہ دیں جو خود حقائق کے زور پر ایک دن مٹ کر رہ جائے گی۔ کوئی نہ اس کا حامی ہوگا اور نہ کوئی اس کا وکیل۔
رسول اللہ علیے کی کے اس واقعہ سے اسلام کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ یہ اصول ہے۔ اجتماعی معاملات میں حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرنا۔
ایک شخص جب اپنی انفرادی نماز پڑھ رہا ہو تو اس کو اختیار ہے کہ وہ اس میں خواہ لمبی سورہ پڑھے یا چھوٹی سورہ۔ لیکن جب وہ ایک بڑی جماعت کی امامت کر رہا ہو تو اس کو دوسروں کا لحاظ کرنا پڑے گا۔
یہی حکم دوسرے اجتماعی معاملات کا بھی ہے۔ اجتماعی معاملات میں ہمیشہ ایک سے زیادہ فریق ہوتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ایسے معاملات میں دوسروں کی رعایت کی جائے۔ ورنہ بار بار ایسی رکاوٹیں پیش آئیں گی کہ اجتماعی زندگی کا سفر طے کرنا ہی مشکل ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل اسلام کی نظر حال سے زیادہ مستقبل پر ہونی چاہئے۔ ایک معاملہ میں اگر فریق ثانی کسی شرط پر اصرار کرنے اور اہل اسلام بھی جوابی ضد کرنے لگیں تو اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ تعطل پیدا ہو جائے گا۔ حتیٰ کہ فریقین کی یہ ضد متشددانہ ٹکراؤ کی صورت بھی اختیار کر سکتی ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ وقتی طور پر فریق ثانی کی ضد کو مان لیا جائے اور اسی کے ساتھ اپنے تعمیر واستحکام کے عمل کو جاری رکھا جائے۔ اور یہ یقین کیا جائے کہ جو چیز حال میں بظاہر حاصل نہیں ہو رہی ہے وہ مستقبل میں ضرور حاصل ہو جائے گی۔
اختلافی معاملے میں ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیا جائے تو پیش قدمی کا عمل رک جاتا ہے۔ اس کے برعکس مصالحانہ طریقہ اختیار کرنے کا یہ فائدہ ہے کہ بظاہر وقتی نقصان کے باوجود پیش قدمی کا عمل جاری رہتا ہے۔ اور کامیاب عمل وہی ہے جو کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل جاری رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues