منافقت کا نیا دور
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۰
منافقت کا نیا دور
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بعد کے زمانے میں لوگوں کے درمیان سے امانت (honesty) اٹھ جائے گی۔ تقریباً تمام لوگ خائن (dishonest) ہو جائیں گے۔ مگر یہ زوال صرف داخل کے اعتبار سے آئے گا۔ جہاں تک ظاہر کا تعلق ہے معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوگا۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ : ويقال للرجل : ما اعقله وما اظرفه وما ا جلده وما فی قلبه مثقال حبة خردل من ایمان (صحیح البخاری، کتاب الفتن) یعنی اور ایک آدمی کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ کتنا زیادہ عقل مند ہے، وہ کتنا زیادہ خوش گفتار ہے، وہ کتنا زبردست ہے۔ حالانکہ اس کے دل میں رائی کے ایک دانہ کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔
اس حدیث میں غالباً ان منافقین کا ذکر ہے جو صنعتی تہذیب کے دور میں پیدا ہونے والے تھے۔ منافقت دراصل مفاد پرستانہ کردار کا دوسرا نام ہے۔ یعنی آدمی کے اندر ایمان و اخلاق کی روح موجود نہ ہو۔ مگر مادی فائدے کے لئے یا لوگوں کے درمیان اچھا بننے کے لئے وہ ظاہری طور پر ایمان و اخلاق کی نمائش کرے۔
یہ عین وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں پروفیشنل اخلاق کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں اس قسم کے مصنوعی اخلاق کے فائدے ہزاروں گنا بڑھ گئے ہیں۔ اسی کے ساتھ مصنوعی اخلاق کے وسائل میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اس زمانی فرق نے منافقانہ روش اختیار کرنے کے محرکات میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔ اس بنا پر یہ بالکل فطری ہے کہ صنعتی تہذیب کے دور میں ایسے شاندار منافقین ظہور میں آئیں جن کا ظہور قدیم زمانہ میں ممکن نہ تھا۔ نئے دور کی منافقت کو دوسرے لفظوں میں پروفیشنل اسلام بھی کہا جا سکتا ہے۔ دورِ جدید کے پر رونق اسباب و وسائل نے پروفیشنل اسلام کو اتنا زیادہ شاندار بنا دیا ہے جو بظاہر مخلصانہ اسلام میں بھی موجود نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues