ہے ہوا میں شراب کی تاثیر بادہ نوشی ہے باد پیمائی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۷
یہ طے کیا ہے کہ انگلش کو پرائمری اہمیت دی جائے۔ اور اردو اور ہندی کو سیکنڈری درجے میں رکھا جائے۔
یہ خواب بظاہر ایک اہم خواب معلوم ہوتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں انگریزی زبان نے غیر معمولی اہمیت حاصل کرلی ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ تاریخ میں پہلی بار صحیح معنوں میں ایک عالمی زبان وجود میں آئی ہے اور وہ انگریزی ہے۔ انگریزی کو عالمی زبان کی حیثیت دینے کا کام پہلی بار برٹش ایمپائر نے کیا جس کا رقبہ اتنا بڑا تھا کہ اس میں سورج نہیں ڈوبتا تھا۔ اس کے بعد امریکہ نے انگریزی کو بہت زیادہ وسعت دی۔ آزادی کے بعد جب امریکی اسمبلی میں یہ سوال آیا کہ ملک کی قومی زبان کیا ہو تو صرف ایک ووٹ سے اپنی زبان کے مقابلہ میں انگریزی کو امریکہ کی قومی زبان کا درجہ حاصل ہوا۔
مسوری کا نام میں نے شاید پہلی بار سب سے پہلے ۱۹۲۸ کے آخر میں سنا جب کہ میرے خاندان کے ایک بزرگ مولانا اقبال احمد سہیل مرحوم مسوری گئے اور وہاں کے مناظر کو دیکھ کر اس پر ایک نظم لکھی۔ یہ نظم ۳۰ سے زیادہ اشعار پر مشتمل تھی۔ اس کے پہلے حصہ میں کوہ مسوری کے فطری حسن کا ذکر تھا۔ اس کے بعد اس کے دوسرے حصہ میں کچھ سبق آموز باتیں کہی گئی تھیں۔ اس نظم کا خاتمہ اس شعر پر ہوا تھا:
خیز و گلزار وطن را آب و رنگ از سر بَدِه ایں خرابَاتِ کہن را رونقِ دیگر بده اسی کے ساتھ اس میں توحید کا پیغام بھی ان الفاظ میں دیا گیا تھا: دہر کو معمور کر دے نغمۂ توحید سے چھھیڑ دے ناخن سے پھر تار رباب زندگی مولانا اقبال احمد سہیل جب ۱۹۲۸ میں مسوری آئے تو انھوں نے اپنی نظم (کوہ مسوری) میں جن تاثرات کا تذکرہ کیا تھا ان میں سے ایک تاثر یہ تھا:
اے مسوری تیرے صدقے تو نے دکھلایا ہمیں کس طرح ہیں اہل مغرب کامیاب زندگی
‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues