Al-Risala · December 1999 · page 29

ہے ہوا میں شراب کی تاثیر بادہ نوشی ہے باد پیمائی

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۹

نظم میں یہ شعر تو موجود تھا مگر اس میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ مسوری میں وہ کون سی مثالیں ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ اہل مغرب نے کس طرح کامیاب زندگی حاصل کی ہے۔ یہی شعر کی کمزوری ہے۔ یہ ایک محدود اسلوب کلام کا نام ہے۔

شعر میں کسی کو نغمہ تو مل سکتا ہے مگر شعر میں رہنمائی نہیں مل سکتی۔ رہنمائی کا کام صرف نثر کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ شاعری کا آخری فائدہ ذہنی تفریح ہے نہ کہ فکری رہنمائی۔ مسوری میں ادھر ادھر سفر کرتے ہوئے میں نے وہاں جو مناظر دیکھے اس سے میں نے یہ سمجھا کہ مسوری کس طرح اہل مغرب کی کامیاب زندگی کی داستان بیان کرتا ہے۔ وہاں کی سڑکیں بتاتی ہیں کہ دشوار گزار مقامات پر معمول کا سفر طے کرنا کس طرح ممکن ہوتا ہے۔ سطح سمندر سے ۶ ہزار فٹ کی بلندی پر شہر بسا کر انہوں نے بتایا کہ سخت گرمی کے موسم میں بھی کس طرح ٹھنڈی رہائش گاہیں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ کمیونی کیشن کے ذرائع دریافت کرکے انھوں نے یہ دکھایا کہ کس طرح دور دراز مقامات سے قریبی تعلقات قائم کئے جاسکتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں اونچے نیچے مقامات پر گھر بنانے کے لئے پہلے اس کو ہموار کیا جاتا تھا۔ اہل مغرب نے اونچے نیچے مقامات کو اسی طرح استعمال کرتے ہوئے ایک نیا اور دلکش طرز تعمیر ایجاد کیا جس کی ایک کامیاب مثال نیشنل ایڈمنسٹریٹیو اکیڈمی کی عمارتیں ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ مسوری ایک پہاڑی مقام ہے جو یوپی کے ضلع دہرہ دون میں واقع ہے۔ مسوری کو عوامی زبان میں منسوری کہا جاتا ہے۔ یہاں پہلے اس نام کا ایک معمولی گاؤں تھا۔ اس کے بعد برٹش دور میں ایک انگریز کیپٹن ینگ (Captain Young) نے اس کی اہمیت کو محسوس کیا اور ۱۸۲۶ میں اس نے پہلی بار یہاں برٹش آبادی قائم کی۔ اس کے بعد سے اس کا نام مسوری ہو گیا۔ اس کے بعد وہاں ترقیاتی کام شروع ہوئے۔ سڑکیں بنائی گئیں۔ اسکول اور لائبریری اور کلب بنائے گئے۔ یہاں پہلا انگلکن چرچ ۱۸۳۷ میں تعمیر کیا گیا۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے چھ ہزار فٹ کی بلندی پر ایک پورا شہر قائم ہو گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues

Printed page