Al-Risala · December 1999 · page 30

ہے ہوا میں شراب کی تاثیر بادہ نوشی ہے باد پیمائی

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۰

مسوری کو نہایت خوبصورت مقام سمجھا جاتا ہے لیکن اگر آپ مسوری شہر میں داخل ہو کر اس کی سڑکوں پر چل رہے ہوں تو وہ عام شہروں جیسا ایک شہر دکھائی دے گا۔ انگریزوں کے آنے سے پہلے بھی یہ پہاڑی مقامات (hill stations) موجود تھے مگر ان کو develop کرنے کا کام انگریزوں نے کیا۔ عام لوگ غالباً یہ سوچتے ہوں گے کہ سڑک تو صرف سیدھی بنائی جاسکتی ہے اور چونکہ پہاڑ پر سیدھی سڑک نہیں بنائی جاسکتی اس لئے اس کو استعمال کرنے کا خیال بھی ان کے دماغ میں نہ آیا۔ انگریزوں نے ہندوستان میں غالباً پہلی بار پہاڑوں پر چڑھنے کے لئے چکر دار سڑک بنانے کا رواج شروع کیا جو سلوپ (slope) کو کاٹ کر اور ہموار کر کے بنائی جاتی ہے۔ اس طرح انگریز چکر دار سڑکیں بنا کر پہاڑ کے اوپر پہنچے اور اس کے اوپر ایک خوبصورت شہر آباد کر دیا اور پرکشش تفریح گاہیں بنائیں۔

مسوری اور اس کے آس پاس کا پہاڑی علاقہ ۱۹ ویں صدی کے آغاز تک نیپال کا ایک مضافاتی حصہ تھا۔ اس کے بعد برٹش فوجیں ۱۸۰۱ میں گورکھپور تک پہنچ گئیں۔ برٹش فوجوں نے جب مزید آگے بڑھنا چاہا تو ان کی جھڑپیں نیپال کے گورکھا قبائل سے شروع ہو گئیں۔ یہ سلسلہ دیر تک قائم رہا۔ ۱۸۱۶ میں انگریزی فوجوں نے مکوان کے مقام پر نیپالی فوجوں کو آخری شکست دی۔ اس کے بعد انگریزوں اور نیپالی حکومت کے درمیان ایک ایگریمنٹ کے تحت اس پورے علاقہ پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا جس میں مسوری بھی شامل تھا۔

مسوری اور اس کے آس پاس کے پہاڑی علاقوں کی اہمیت ہل اسٹیشن کے علاوہ انگریزوں کے لئے یہ تھی کہ وہ اس کے ذریعہ سنٹرل ایشیا سے اپنے تعلقات کو قائم کر سکتے تھے : They obtained greater facilities for communications with the regions of central Asia. اگر بہادری کے اعتبار سے تقابل کیا جائے تو گورکھا قبائل انگریزوں سے زیادہ بہادر تھے، مگر دونوں میں یہ فرق تھا کہ گورکھا لوگ صرف روایتی ہتھیاروں اور روایتی طریقوں سے تھے۔ جب کہ انگریزی فوج جدید ٹکنالوجی اور بہتر فوجی پلاننگ کی مالک ہو چکی تھی۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues

Printed page