Al-Risala · December 1999 · page 39

ہے ہوا میں شراب کی تاثیر بادہ نوشی ہے باد پیمائی

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۹

کوئی واضح جواب دے سکیں ۔ احمد دیدات صاحب سے میری ملاقات مالدیپ میں ہوئی۔ ان سے میں نے یہی سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ سب موشکانی (hairsplitting) ہے۔ مجھے تعجب ہوتا ہے کہ لوگ سیکڑوں کتابیں پڑھتے ہیں اور لمبی عمریں گزار دیتے ہیں مگر ان کے پاس یہ کہنے کے لئے نہیں ہوتا کہ فلاں بات میری اپنی دریافت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ فلاں بات پہلی بار میرے اوپر منکشف ہوئی۔

جاپانیوں سے یہ سوال کیا جائے تو اکثر ان سے اس سوال پر کوئی مثبت جواب ملے گا۔ جاپانیوں کے مزاج کا اندازہ جاپانی زبان کی اس کہاوت سے ہوتا ہے کہ ہر روز کوئی نئی بات سیکھو، خواہ وہ سوئی میں دھاگہ ڈالنے کا نیا طریقہ ہی کیوں نہ ہو۔

ٹرین دہرہ دون سے دہلی کے لئے روانہ ہوئی۔ ٹرین کے دونوں طرف دوبارہ سرسبز میدان موجود تھے مگر وہ ہمیں دکھائی نہیں دیتے تھے۔ اس لئے کہ رات کی وجہ سے چاروں طرف اندھیرا چھا چکا تھا۔ کسی چیز کو دیکھنے کے لئے صرف آنکھ کافی نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ روشنی بھی ضروری ہے۔ اگر روشنی نہ ہو تو آنکھ کے باوجود آدمی کچھ دیکھ نہ سکے گا۔ دہرہ دون اور دہلی کے درمیان سفر کرتے ہوئے ٹرین میں پروفیسر سمستانی سے تفصیلی باتیں ہوئیں ۔ وہ بنارس ہندو یونیورسٹی میں بدھزم کے استاد رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ گوتم بدھ نے کہا تھا کہ میرے بعد ایک اور بدھا آئے گا جو تم کو اور زیادہ جانکاری دے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے عقیدے کے مطابق وہ آچکا ہے اور وہ اسپریٹ کے روپ میں موجود ہے۔ مجھے یہ بات بہت عجیب لگی کیوں کہ پیشین گوئی کے مطابق دوسرے نے بدھا کو بھی جسم اور روح کا مجموعہ ہونا چاہئے نہ کہ صرف روح کا مجموعہ ۔

ایک موقع پر انھوں نے بدھزم پر ایک کتاب کی نشاندہی کی اور کہا کہ بدھزم کے مطالعہ کے لئے یہ کتاب بہت اچھی ہے۔ میں نے کہا کہ اس کتاب کا نام اور اس کے مصنف کا نام ایک کاغذ پر لکھ دیجئے ۔ انھوں نے اپنے بیگ سے قلم نکالنا چاہا تو وہ فورا انھیں نہیں ملا۔ کچھ دیر تلاش کرنے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues

Printed page