ہے ہوا میں شراب کی تاثیر بادہ نوشی ہے باد پیمائی
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۸
پاتے ۔ مادی کہر قدرتی مناظر کو ڈھک لیتا ہے اور غلط افکار کا کہر معانی اور حقائق کو ۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ سفر کر کے ہم لوگ دہرہ دون ریلوے اسٹیشن پہنچے۔ یہاں کچھ دیر ویٹنگ روم میں قیام کیا۔ یہاں پروفیسر این اچ سمستانی سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ وہ ایک بدھسٹ ہیں اور انھوں نے بدھزم پر ریسرچ کی ہے۔ ریٹائر منٹ کے بعد اب وہ سنٹر فار مہا یانا بدھسٹ اسٹڈیز کے اعزازی ڈائر کٹر ہیں۔ ۷۵ سال کی عمر میں بھی ان کی صحت کافی اچھی ہے۔ اس کا راز انھوں نے یہ بتایا کہ وہ روز آنہ جنگل میں دیر تک ٹہلتے ہیں اور روزانہ صبح کو نیم کی پتی (پھنگی) کھاتے ہیں۔
ہندوستان میں کریلا اور نیم کی پتی وغیرہ بہت عرصہ سے صحت کے لئے مفید سمجھے جاتے رہے ہیں۔ اب امریکیوں نے اس راز کو دریافت کر لیا ہے۔ انھوں نے کریلا اور نیم جیسی کئی چیزوں کو پٹینٹ کر لیا ہے۔ بہت جلد ان چیزوں کا روایتی کڑوا پن ختم ہو جائے گا۔ امریکی کمپنیاں ان کو پر اسس کر کے کیپسول میں بھر دیں گی اور پھر لوگ اس کو پانی کے ایک گھونٹ سے نگل لیا کریں گے۔ کریلا اور نیم کے فائدے کو جاننے کے باوجود ابھی تک بہت کم لوگ ان کو استعمال کر پاتے تھے۔ اب ان کا استعمال عمومی سطح پر ہونے لگا گا۔
۲۶ جولائی کی رات کو مسوری ایکسپریس کے ذریعہ دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ اس سفر میں کئی لوگ میرے ساتھ تھے۔ ڈاکٹر ڈسے مطالعہ کے اتنے شوقین ہیں کہ انھوں نے دہرہ دون کے پلیٹ فارم پر ۴۰۰ روپے میں دو کتابیں خریدیں۔ وہ ہر قسم کی کتابوں کا بکثرت مطالعہ کرتے ہیں۔ ان کی عمر اب ۷۵ سال ہو چکی ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے بہت کتابیں پڑھی ہیں۔ دنیا کے مختلف ملکوں کے سفر کئے ہیں۔ اپنی کوئی خاص ذہنی دریافت (intellectual finding) بتائیے ۔ انھوں نے کچھ دیر سوچا اور اس کے بعد ٹیگور کا ایک شعر پڑھ دیا۔ میں نے کہا کہ میں ٹیگور کی دریافت نہیں آپ کی دریافت پوچھ رہا ہوں۔ مگر انھوں نے اپنی کوئی ذاتی دریافت نہیں بتائی۔ یہ سوال میں اکثر لوگوں سے کرتا ہوں۔ مگر مجھے بہت کم آدمی ایسے ملے جو اس سوال کا
‹ Previous page Next page › Contents of December 1999 All issues