Al-Risala · February 1999 · page 11

خدا کائنات کا نور

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۱۱

سے منور کرنے والا نہیں جس کے بغیر آدمی کا پورا وجود ہی اس دنیا میں بے معنی ہو جاتا ہے۔ توحید اور شرک کا فرق توحید کا مطلب خالق کو پالینا ہے اور شرک کا مطلب یہ ہے کہ آدمی مخلوقات میں اٹک کر رہ جائے۔ توحید حقیقت کی سطح پر جینے کا نام ہے اور شرک کا مطلب توہمات کی سطح پر جینے کا ۔ نام۔ توحید اپنی فطرت کی دریافت کا نتیجہ ہے اور شرک اپنی فطرت سے بے خبری کا نتیجہ۔ اہل توحید ہی اس دنیا کے مطلوب انسان کی حیثیت رکھتے ہیں کیوں کہ یہی لوگ جو خالق کی منشا کے مطابق ہیں۔

دنیا کے بنانے والے نے اس کو جس منصوبے کے تحت بنایا ہے اہل توحید اس منصوبہ الہی کی تکمیل کر رہے ہیں۔ وہ اسی نقشہ پر ہیں جس نقشہ پر انسان کو ہونا چاہئے۔ اہل توحید خدا کے مطلوب انسان ہیں۔ وہ دنیا میں دنیا کے مالک کی مرضی کو پورا کر رہے ہیں۔ شرک اور اہل شرک کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ شرک خدا کی دنیا میں ایک اجنبی تصور ہے۔ اہل توحید اگر اس دنیا میں مطلوب لوگ (wanted people) ہیں تو اہل شرک اس کے برعکس غیر مطلوب لوگ (unwanted people)۔ شرک کے عقیدہ کو اس دنیا میں اس کے مالک کی سند حاصل نہیں۔ شرک کی روش اس دنیا میں ایک ایسی روش ہے جس کی اجازت دنیا کے مالک نے دنیا میں بسنے والوں کو نہیں دی۔

گول خانہ میں کوئی چو کور چیز رکھی جائے تو وہ اس کے اندر فٹ نہیں بیٹھے گی۔ جب کہ گول خانہ میں گول چیز بالکل فٹ بیٹھ جاتی ہے۔ یہی معاملہ توحید اور شرک کا ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے صرف توحید کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اس لئے توحید کا تصور یا موحدانہ زندگی اس کی فطرت کے عین مطابق ہے جب کہ شرک کا عقیدہ یا مشرکانہ زندگی انسانی فطرت کے مطابق نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page