خدا کائنات کا نور
الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۱۲
مشرک انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ غیر خدائی چیزیں اس کی توہجات کا مرکز بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس لئے پیش آنے والے مختلف حالات میں اس کا رویہ بھی انھیں غیر خدائی ہستیوں کی نسبت سے متعین ہوتا ہے۔ وہ اپنی کامیابی میں بھی انھیں کی طرف دوڑتا ہے اور ناکامی میں بھی وہ انھیں کی پناہ تلاش کرنا چاہتا ہے۔
اس کی مفروضہ غیر خدائی ہستیاں ہی ہر صورت حال میں اس کے دل و دماغ پر چھائی رہتی ہیں۔ موحد انسان اگر اپنے تجربات سے توحید کی غذا پا تا رہتا ہے تو مشرک انسان کے لئے اس کے تجربات مشرکانہ غذا کے حصول کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
آدمی ہر لمحہ کچھ حالات کے درمیان جیتا ہے۔ ۔۔ خوشی کے حالات یا غم کے حالات، تکلیف کے حالات یا آرام کے حالات، کامیابی کے حالات یا ناکامی کے حالات، اختیار واقتدار کے حالات یا بے اختیاری کے حالات، غلبہ کے حالات یا مغلوبیت کے حالات، موافق حالات یا غیر موافق حالات۔ ان مختلف حالات میں ایک رویہ (response) موحدانہ رویہ ہے اور دوسرا رویہ مشرکانہ رویہ۔
موحد انسان خدا کی عظمت میں جی رہا ہوتا ہے اس لئے اس کی زندگی میں پیش آنے والا ہر واقعہ اس کو خدا کی یاد دلاتا رہتا ہے۔ اس کا رویہ ہر موقع پر وہی ہوتا ہے جو اس کے عقیدہ توحید کے مطابق ہو۔ وہ ہر صورت حال میں ایک سچا خدا پرست انسان ثابت ہوتا ہے۔ وہ زندگی کے اتار چڑھاؤ میں اپنے اعتدال کو نہیں کھوتا۔ وہ خواہ جس حال میں ہو، ہمیشہ اپنے خدا سے وابستہ رہتا ہے۔ خدا اس کی تمام تو جہات کا مرکز بن جاتا ہے، وہ کسی بھی حال میں اس سے نہیں ہٹتا۔ توحید خدا کی نظر میں سب سے زیادہ با قیمت چیز ہے اور شرک خدا کی نظر میں سب سے زیادہ بے قیمت چیز ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس معاملہ کا تعلق اس انتہائی مخصوص چیز سے ہے جو انسان کا سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ ہے۔ اور وہ ہے کسی سے گہرا قلبی تعلق ۔ یہ انسان کی سب سے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues