Al-Risala · February 1999 · page 13

پیغمبروں کا مشن

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۱۳

زیادہ اعلیٰ متاع ہے۔ اسی گہرے قلبی تعلق کا صرف ایک خدا سے وابستہ ہو جانے کا نام توحید ہے۔ اگر یہ گہری وابستگی خدا کے سوا کسی اور سے ہو تو اسی کا نام شرک ہے۔ اس گہرے قلبی تعلق کا اظہار دو قسم کے جذبات کی صورت میں ہوتا ہے۔ ایک محبت، اور دوسرے خوف۔ قرآن میں موحد انسان کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ اس کو سب سے زیادہ محبت صرف ایک خدا سے ہوتی ہے (البقرہ ۱۶۵) اور سب سے زیادہ خوف بھی صرف ایک خدا سے (التوبہ ۱۸)

یہ حب شدید اور خوف شدید صرف اس ہستی کا حق ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے، جو اس کا مالک اور رب ہے۔ جو آدمی یہ مخصوص تعلق کسی اور سے قائم کرے تو اس نے شرک کیا۔ اس نے وہ چیز کسی اور کو دے دی جو صرف ایک خدا کا حصہ تھی۔

آدمی کو جس چیز سے یہ گہرا قلبی تعلق ہو جائے وہ ہر لمحہ اس کے بارہ میں سوچتا ہے۔ اس کے جذبات میں وہی ہر وقت سمایا ہوا ہوتا ہے۔ وہ اسی کو پانے سے خوش ہوتا ہے، اس سے محرومی کا اندیشہ اس کو تڑپا دیتا ہے۔ اس کے دل میں شوق کا طوفان اٹھتا ہے تو اسی کے لئے اٹھتا ہے۔ اس کو چھننے کا خوف ہوتا ہے تو اسی سے۔ وہ پانے کی امید رکھتا ہے تو اسی سے۔ اس کی آنکھیں روتی ہیں تو اسی کو یاد کر کے روتی ہیں۔ اس کی سوچ پر غلبہ رہتا ہے تو صرف اسی ایک کا غلبہ رہتا ہے۔ اس کا وجود کسی کے آگے ڈھ پڑتا ہے تو وہ صرف یہی ایک اعلیٰ اور برتر ذات ہوتی ہے۔ اسی لطیف انسانی جذبہ کو عبودیت کہا جاتا ہے۔ اس جذبہ عبودیت میں خدا کسی کی شرکت کو گوارا نہیں کرتا۔ اس جذبہ عبودیت کا مستحق صرف ایک خدائے عظیم ہے، اس کے سوا کوئی نہیں جو ادنیٰ درجہ میں بھی اس کا مستحق ہو۔

پیغمبروں کا مشن

پچھلے زمانوں میں خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے وہ سب اسی لئے آئے کہ وہ انسان کو

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page