پیغمبروں کا مشن
الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۱۵
قدیم زمانہ میں سورج ونشی اور چندر ونشی کا عقیدہ پیدا ہوا۔ گویا موجودہ زمانہ میں حکومت کی بنیاد سیکولر جمہوریت ہے جب کہ قدیم زمانہ میں حکومت کی بنیاد مشرکانہ عقیدہ پر ہوتی تھی۔ اسی واقعہ کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: انا ربکم الاعلیٰ (النازعات ۲۷) اس بنا پر یہ بادشاہوں کے عین سیاسی مفاد میں تھا کہ شرک کا عقیدہ دنیا میں قائم رہے۔ چنانچہ ان کی خصوصی سرپرستی کے تحت عبادت گاہ سے لے کر جینے مرنے کی رسموں تک زندگی کا پورا نظام شرک کے اوپر قائم ہو گیا تھا۔
یہ مشرکانہ نظام قدیم زمانہ میں ہزاروں سال تک تمام دنیا میں چھایا رہا۔ بادشاہوں کی سرپرستی کی بنا پر یہ مشرکانہ نظام اتنا زیادہ طاقتور ہو گیا کہ وہ ہمیشہ پیغمبروں کے خلاف ایک موثر رکاوٹ بنارہا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ قدیم زمانہ میں پیغمبروں کی تحریک صرف پیغام رسانی کے مرحلہ تک محدود رہی، وہ وسیع تر عملی انقلاب کے مرحلہ تک نہ پہنچ سکی۔
اس سلسلہ میں دوسری رکاوٹ وہ تھی جس کو توہماتی افکار کا دور کہا جا سکتا ہے۔ قدیم زمانہ میں جب کہ جدید قسم کی سائنسی دریافتیں نہیں ہوئی تھیں، انسان فطرت کے مظاہر کی صحیح نوعیت کو نہیں سمجھ پایا تھا۔ وہ دیکھتا تھا کہ دنیا میں مختلف قسم کی حیران کن چیزیں ہیں۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ اور سمندر، زمین اور آسمان، درخت اور حیوانات و غیرہ وغیرہ۔ مظاہر کے اس تعدد۔ کو دیکھ کر انسان اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا کہ ان کے خالق بھی کئی ہیں یا یہ کہ مختلف مظاہر خود مختلف خداؤں کا ظہور ہیں۔ اس طرح تعدد مظاہر کی بنا پر تعدد الٰہ کا نظریہ پیدا ہوا۔ یہاں تک کہ سورج اور چاند کو ان کے غیر معمولی پن کی بنا پر خدا یا دیوتا سمجھا جانے لگا۔ انسان کے لئے یہ ناقابل یقین ہو گیا کہ جب مخلوقات میں اتنا زیادہ تنوع اور تعدد ہے تو ان سب کا خدا ایک کیسے ہو سکتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف خدا کے پیغمبر حضرت ابراہیم نے ان الفاظ میں اشارہ کیا تھا : رب انهن اضللن كثيراً ( ابراهیم ۳۶) یعنی فطرت کے یہ نمایاں مظاہر (سورج، چاند وغیرہ) نے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues