Al-Risala · February 1999 · page 16

سائنس کے دور میں

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۱۶

انسان کو دھوکہ میں ڈال دیا۔ لوگ انہیں مظاہر کو عظیم سمجھنے لگے۔ حالانکہ انہیں چاہیے تھا کہ وہ ان تمام چیزوں کو عظیم خدا کی مخلوق سمجھیں۔ مگر اس کے برعکس انھوں نے خود مخلوقات ہی کو خدا سمجھ کر ان کو پوجنا شروع کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں مذکورہ دونوں افسانوں کا خاتمہ ہو گیا۔ ایک طرف جمہوری افکار کے ذریعہ ساری دنیا میں جو طاقتور سیاسی انقلاب آیا اس نے قدیم طرز کی مشرکانہ بادشاہت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا۔ اب آج کی دنیا میں قدیم طرز کے بادشاہوں کا کہیں وجود نہیں۔ وہ جدید جمہوریت کے سیلاب میں خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے۔ اس جدید سیاسی انقلاب کے بعد مشرکانہ عقیدہ یا مشرکانہ نظام اس مؤثر سر پرستی سے محروم ہو گیا جورڈ شرک اور اثبات توحید کی دعوت میں طاقتور رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ اب یہ امکان پوری طرح کھل گیا ہے کہ پیغمبرانہ دعوت کو بھر پور طور پر جاری کیا جائے اور اس کو اس طرح چلایا جائے کہ اول سے آخر تک کسی بھی مرحلہ میں اس کو کسی مزاحمت کا خطرہ نہ ہو۔

سائنس کے دور میں

اسی طرح جدید سائنس کے ظہور نے شرک کی دوسری بنیاد کو بھی ختم کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی دریافتوں کے ذریعہ یہ افسانہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا کہ فطرت کے مظاہر میں کوئی حقیقی تعدد ہے یا انھیں کوئی ذاتی عظمت حاصل ہے۔

جدید سائنس نے ایک طرف یہ کیا کہ اپنے تجزیہ اور تجربہ کے ذریعہ آخری طور پر یہ ثابت کر دیا کہ تمام چیزیں، ظاہری تعدد کے باوجود، اپنے آخری تجزیہ میں صرف ایٹم کا مجموعہ ہیں۔ اور ایٹم برقیاتی لہروں کا مجموعہ ہے۔ اس دریافت کے بعد فطرت میں تعدد کا افسانہ ختم ہو گیا۔ تمام چیزیں ظاہری فرق کے باوجود، اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ثابت ہو گئیں۔ گویا علم کی اگلی ترقی نے مشرکانہ نظریہ کو رد کر کے توحید کے نظریہ کے لئے ایک ثابت شدہ بنیاد فراہم کر دی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page