Al-Risala · February 1999 · page 18

سائنس کے دور میں

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۱۸

میں موجود ہی نہیں۔

اسی طرح مشرکانہ عقائد یا فرضی معبودوں کا نظام موجودہ زمانہ کے ایک تعلیم یافتہ انسان کے لئے پوری طرح مضحکہ خیز بن چکا ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ بارش کا برسنا یا فصل کا اگنا اور اس طرح کے دوسرے واقعات تمام تر فطرت کے اصولوں پر مبنی (based) ہیں۔ قدیم توہماتی دور میں شرک کا عقیدہ قابل قبول ہو سکتا تھا۔ مگر اب ترقی یافتہ علم کے زمانہ میں شرک کا پورا ڈھانچہ عقیدہ سے لے کر عمل تک، سراسر بے اصل قرار پا چکا ہے۔ ترقی یافتہ زمانہ میں شرک کا جو حال ہوا اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی اندھیرے کمرے کے بارے میں یہ سمجھ لیا جائے کہ اس کے اندر بڑی بڑی سینگوں والا کوئی خطرناک عفریت بیٹھا ہوا ہے۔ مگر جب کمرہ کو روشن کیا جائے تو معلوم ہو کہ وہاں ایسی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہ تھی۔ سائنس کے ظہور سے پہلے دنیا میں توہماتی خیالات کا غلبہ تھا۔ اس وقت کم فہمی کے تحت لوگ شرک کے فریب میں مبتلا ہو سکتے تھے۔ مگر اب سائنس کی روشنی پھیل جانے کے بعد اس کا امکان ختم ہو گیا ہے کہ شرک دوبارہ لوگوں کے ذہن میں اپنی جگہ بنا سکے۔ تاہم خود توہمات کا ابھی تک خاتمہ نہیں ہوا۔ ذاتی زندگی میں آج بھی ساری دنیا میں کروڑوں لوگ پراسرار قسم کے توہمات میں یقین رکھتے ہیں۔ اہل علم طبقہ کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو دیوی دیوتاؤں کو تو نہیں مانتی مگر اب بھی وہ خدائے واحد تک نہیں پہنچی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان کی پچھلی نسلیں اگر دیوی دیوتاؤں میں اٹکی ہوئی تھیں تو اب قانون فطرت کے نام سے انھوں نے ایک اور معبود کو فرض کر لیا ہے اور اس کو اپنے ذہن میں اسی طرح بٹھائے ہوئے ہیں جس طرح قدیم انسان دیوی دیوتاؤں کو بٹھائے ہوئے تھا۔

اس طرح انسانی تاریخ گردش کرتے ہوئے اب ایک ایسے دور میں پہنچ گئی ہے جب کہ پیغمبروں کی تحریک کے راستہ کی تمام رکاوٹیں ختم ہو گئی ہیں۔ آج رد شرک اور اثبات توحید کی

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page