Al-Risala · February 1999 · page 17

سائنس کے دور میں

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۱۷

اسی کے ساتھ جدید سائنس نے دوسری بات یہ ثابت کی کہ زمین میں یا وسیع خلا میں جتنی بھی چیزیں ہیں وہ سب کی سب مخلوق ہیں۔ سب کی سب ایک محکم قانونِ فطرت میں بندھی ہوئی ہیں۔ انھیں کسی بھی درجہ میں کوئی ذاتی اختیار یا اقتدار حاصل نہیں۔ اسی کے ساتھ ایک اور بات ثابت ہو گئی جو عقیدۂ شرک کے سراسر خلاف اور عقیدۂ توحید کے سراسر موافق ہے۔ وہ یہ کہ ساری کائنات اپنے تمام مختلف اجزأ کے ساتھ ایک ہی قانونِ فطرت کے تحت چل رہی ہے جس کو سائنس داں اپنی زبان میں واحد ڈوری (single string) سے تعبیر کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خود علمِ انسانی کی دریافتوں کے مطابق کائنات کا صرف ایک خدا ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی خدا ہے اور نہ کوئی معبود۔ شرک کی اصل توہماتی طرزِ فکر (superstitious thinking) میں ہے۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی تحقیقات نے قدیم زمانہ کے توہمات (superstitions) کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ اس طرح شرک کی جڑیں موجودہ زمانہ میں خالص علمی اعتبار سے ختم ہو گئیں۔ اب کوئی سائنٹفک ذہن (scientific mind) شرک کو بطور حقیقت ماننے کے لئے تیار نہیں۔ تاہم ابھی تک شرک کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا۔ پہلے زمانہ میں انسان یہ عقیدہ قائم کئے ہوئے تھا کہ فلاں فلاں دیوی دیوتا ہیں جو ہوائیں چلاتے ہیں، جو بارش برساتے ہیں، جو پر اسرار طور پر ان واقعات کے پیچھے کام کر رہے ہیں جن کو ہم صبح و شام دیکھتے ہیں۔ مگر اب سائنسی تحقیقات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ سب واقعات معلوم فطری قوانین (laws of nature) کے تحت ظہور میں آتے ہیں۔ وہ کسی پر اسرار دیوی یا دیوتا کا کرشمہ نہیں۔ اس طرح قدیم طرز کے شرک کا اب بڑی حد تک خاتمہ ہو چکا ہے۔ ایک جاہل اور بے خبر شخص نے جب پہلی بار ایک کار کو دوڑتے ہوئے دیکھا تو اس نے سمجھا کہ یہ کوئی جادو گر ہے جو اپنے لوہے کے کمرہ کو جادو کے زور پر دوڑا رہا ہے۔ مگر ایک باخبر انجینئر اس قسم کی بات کو مضحکہ خیز سمجھے گا۔ کیوں کہ اس کو یقین ہو گا کہ ایسا کوئی جادو واقعہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page