جلدی نہیں
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۸
جلدی نہیں
جب میں نوجوان تھا اور یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا تو مجھے یہ شوق ہوا کہ میرے گھر کے آنگن میں آم کا ایک درخت ہو۔ اب ایک صورت یہ تھی کہ میں آم کا ایک چھوٹا پودا اپنے آنگن میں لگاؤں اور سالوں تک اس کے بڑھنے کا انتظار کروں۔ مگر نوجوانی کے جوش میں میں اس انتظار کے لئے تیار نہ تھا۔ میں چاہتا تھا کہ اچانک ہی میرے گھر میں آم کا ایک بڑا سا درخت دکھائی دینے لگے۔
وہاں میرا آموں کا باغ تھا۔ اس میں پانچ سال کا ایک درخت تھا جو بڑھتے بڑھتے انسانی قد سے اونچا ہو چکا تھا۔ اور خوب ہرا بھراتھا۔ میں نے کئی مزدور اس پر لگا دیئے ۔ وہ دن بھر اس کی کھودائی کرتے رہے آخر کار شام کو وہ درخت ایک بڑی چارپائی پر رکھ کر گھر کے اندر لایا گیا اور آنگن میں گڈھا کھود کر اس کو وہاں لگا دیا گیا۔ میں بہت خوش تھا کہ میں نے بڑا درخت لگا کر پانچ سال کا سفر ایک دن میں طے کر لیا ہے۔ مگر رات کو سو کر جب میں صبح کو اٹھا تو درخت کے پتے مرجھائے ہوئے نظر آئے۔ لیکن ابھی میں مایوس نہیں ہوا۔ میں نے اس میں خوب پانی ڈالا میں نے سمجھا کہ پانی پا کر اس کے پتے ہرے ہو جائیں گے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اگلے دن اس کے پتے اور زیادہ مرجھاگئے یہاں تک کہ چند دنوں میں وہ درخت بالکل سوکھ گیا۔
نوجوانی کی عمر کا یہ تجربہ میرے لئے بہت سخت ثابت ہوا۔ وہ میرے لئے زندگی بھر کا تجربہ بن گیا۔ اس سے میرے اندر گہرائی کے ساتھ یہ سوچ پیدا ہوئی کہ زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ زندگی ایک لمبا سفر ہے اور اس کو ہر حال میں لمبے دنوں ہی میں پورا کرنا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues