جلدی نہیں
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۹
اس واقعہ کے بعد مجھ پر یہ کھلا کہ دنیا میں انسان کا معاملہ ففٹی ففٹی جیسا ہے۔ یعنی دنیا میں جو کام بھی کرنا ہو اس میں ایک حصہ انسان کا ہوتا ہے اور دوسرا حصہ نیچر کا۔ دنیا میں ہر واقعہ انسان اور نیچر دونوں کی مطابقت سے پورا ہوتا ہے۔ انسان اگر جلدی چاہے اور نیچر کا طریقہ جلدی کا طریقہ نہ ہو تو ایسی حالت میں محض انسان کے چاہنے سے کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ اس واقعہ نے مجھے ہمیشہ کے لئے اس معاملہ میں محتاط بنا دیا۔
انسان اور نیچر کی مثال کاگ وہیل جیسی ہے۔ کاگ وہیل میں دونوں کاگ ایک ساتھ چلتے ہیں۔ اگر ایک کاگ اپنی رفتار کو دوسرے کاگ سے تیز کرنا چاہے تو سارا نظام بگڑ کر رہ جائے گا۔ انسان کا کاگ کمزور ہے اور نیچر کا کاگ طاقت ور۔ ایسی حالت میں اگر انسان اپنی کاگ کی رفتار بڑھانا چاہے تو اس کا انجام صرف یہ ہوگا کہ انسان کا کاگ ٹوٹ جائے ۔ کیونکہ نیچر کا کاگ تو اتنا طاقتور ہے کہ وہ کسی حال میں ٹوٹنے والا نہیں۔ درخت کے معاملہ میں مجھ کو جو تجربہ ہوا، وہ میری زندگی کا آخری تجربہ بن گیا۔ اس کے بعد پھر میں نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ جو کام دھیرے دھیرے ہونے والا ہو اس کو اچانک کرنا چاہوں۔ اس کے بعد ہر کام میں میں یہ سوچنے لگا کہ اس کا حقیقی اسٹارٹنگ پوائنٹ کیا ہے۔ کیونکہ اس دنیا میں آپ درمیان سے یا آخر سے اپنا سفر شروع نہیں کر سکتے۔ آپ کو ہر حال میں وہیں سے اپنا سفر شروع کرنا ہے جہاں سے نیچر کے مطابق وہ شروع ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues