Al-Risala · February 1999 · page 20

ایک آزمائش

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۲۰

ایک آزمائش

قرآن کی سورہ نمبر ۲۲ میں ارشاد ہوا ہے کہ --- اور ہم نے تم سے پہلے جو بھی رسول، اور نبی بھیجا تو جب اس نے کچھ پڑھا تو شیطان نے اس کے پڑھنے میں ملا دیا۔ پھر اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو مٹا دیتا ہے۔ پھر اللہ اپنی آیتوں کو پختہ کر دیتا ہے۔ اور اللہ علم والا، حکمت والا ہے (الحج: ۵۲) حق کا داعی خواہ وہ پیغمبر ہو یا غیر پیغمبر، اس کے ساتھ ہمیشہ یہ معاملہ پیش آتا ہے کہ جب وہ خدا کی سچی بات کا اعلان کرتا ہے تو معاندین اس کی بات میں طرح طرح کے شوشے نکالتے ہیں تاکہ لوگوں کو اس کی صداقت کے بارے میں مشتبہ کر دیں۔

اس طرح کے شوشے ہمیشہ بے بنیاد ہوتے ہیں۔ جب وہ پیش کئے جاتے ہیں تو داعی کو موقع ملتا ہے کہ وہ ان کی وضاحت کر کے اپنی بات کو اور زیادہ ثابت شدہ بنا دے۔ اس سے مخلص لوگوں کے یقین میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد خدا کے ساتھ ان کا تعلق اور زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ مگر جو لوگ گہری معرفت سے خالی ہوتے ہیں، یہ شوشے ان کے لئے فتنہ بن جاتے ہیں۔ وہ ان کے فریب میں مبتلا ہو کر حق سے دور چلے جاتے ہیں۔

"اللہ ایمان والوں کو ضرور صراط مستقیم دکھاتا ہے" اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ جو لوگ فی الواقع ایمان کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ کبھی جھوٹے پروپیگنڈوں سے متاثر نہیں ہوتے۔ وہ پر فریب الفاظ سے کبھی دھوکہ نہیں کھاتے۔ ان کا ایمان ان کے لئے ایسا علم بن جاتا ہے جو باتوں کو ان کی گہرائی کے ساتھ جان لے نہ کہ محض باتوں کے ظواہر میں اٹک کر رہ جائے۔ یہ ایک آزمائش ہے۔ حق کی دعوت کے ساتھ ہمیشہ اسی طرح کی آزمائشیں پیش آتی ہیں۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے تاکہ مخلص اور غیر مخلص کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے۔ تاکہ غیر مخلص بے نقاب ہو جائیں اور جو لوگ مخلص ہیں ان کا اخلاص عملی طور پر ثابت شدہ بن جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page