خطرہ کہاں
الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۲۱
خطرہ کہاں
ایک عربی پرچہ میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان تھا: الاقليات المسلمين تواجه خطر اذوبان ۔ یعنی مسلم اقلیتوں کو اس خطرہ کا سامنا ہے کہ وہ اکثریتی فرقہ میں گھل مل جائیں۔
حدیث میں آیا ہے کہ الاسلام یعلو ولا یعلی (اسلام ہمیشہ غالب رہتا ہے وہ کبھی مغلوب نہیں ہوتا) فتح الباری ۴۱/۳۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اسلام کو اللہ تعالیٰ نے غلبہ کی نسبت عطا فرمائی ہے تو اس کے لئے مغلوب ہونے یا جذب ہو جانے کا خطرہ کیوں محسوس کیا جا رہا ہے۔
اس کی وجہ بالکل سادہ ہے اور وہ اسلام اور مسلمانوں میں فرق نہ کرنا ہے۔ کوئی مسلم گروہ اپنے زوال کی بنا پر مذکورہ قسم کے خطرے میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ لیکن اسلام، ایک ربانی نظریہ کی حیثیت سے اس سے ارفع و اعلیٰ ہے کہ اس کو کسی بھی حال میں غیر اسلامی طاقتوں سے مغلوب ہونے یا ان میں جذب ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کے لئے یہ خطرہ پیدا ہو کہ وہ کسی غیر مسلم طاقت سے مغلوب ہو جائیں گے یا اس میں جذب ہو جائیں گے تو پیشگی طور پر یہ سمجھنا چاہئے کہ اس کی وجہ خود مسلمانوں کا اسلام میں کمزور ہونا ہے نہ کہ غیر مسلموں کا ان کے مقابلہ میں طاقتور ہو جانا۔
اس لئے جب بھی اس قسم کا خطرہ پیدا ہو تو مصلحین کو چاہئے کہ وہ خود مسلم نسلوں کو دوبارہ اسلام پر اٹھانے کی کوشش کریں۔ وہ ان کے کیس کو قولی کیس کے بجائے اسلام کا کیس بنا دیں۔ اس کے بجائے غیر مسلم طاقتوں کے خلاف قولی یا عملی ہنگامہ آرائی کرنا ایک غیر متعلق فعل ہے جس کا خدا کی اس دنیا میں کوئی فائدہ نکلنے والا نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues