Al-Risala · February 1999 · page 22

محتاط روش

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۲۲

محتاط روش

عن اوس بن شرحبیل انه سمع رسول الله يقول من مشی مع ظالم لیقویه وهو یعلم انه ظالم فقد خرج من الاسلام (مشکوٰۃ المصابیح ۳/ ۱۴۲۰)

اوس بن شر حبیل کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو شخص ظالم کے ساتھ چلے تا کہ اس کو تقویت حاصل ہو، اور وہ جانتا ہو کہ وہ ظالم ہے، تو ایسا شخص اسلام سے نکل گیا۔

عن ابراهیم بن میسرة قال قال رسول الله ﷺ من وقر صاحب بدعة اعان علی هدم الاسلام (مشکوٰۃ ۱/ ۶۶) ابراہیم بن میسرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص بدعت والے کی توقیر کرے تو اس نے اسلام کو منہدم کرنے میں مدد دی۔

کسی آدمی کے برا آدمی ہونے کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ براہ راست برائی میں ملوث ہو۔ مثلاً وہ خود برا کام کرے یا بر اکام کرنے والے کا با قاعدہ ساتھی بن جائے۔ جو لوگ اس طرح براہ راست انداز میں ملوث ہوں ان کا برا ہونا ایک معلوم اور مسلم بات ہے۔ تاہم اسلام کی نظر میں صرف وہی شخص برا نہیں ہوتا تا جو ذاتی طور پر اور براہ راست طور پر برائی میں ملوث ہو۔ اسلام کے نزدیک وہ شخص بھی یکساں طور پر برا ہے جو بالواسطہ انداز میں برائی کے عمل میں ملوث ہوتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں آدمی کا ہر عمل یا تو کسی کے موافق ہوتا ہے یا کسی کے مخالف، ہر آدمی اپنے قول و عمل سے ایک روش کی تائید کرتا ہے اور دوسری روش کی تردید، خواہ یہ تائید و تردید براہ راست ہو یا بالواسطہ۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہئے کہ جب بھی وہ کسی معاملہ میں بولے یا کوئی کارروائی کرے تو بولنے یا کرنے سے پہلے یہ سوچے کہ اس کے قول یا عمل کے ذریعہ کس کی حمایت ہو گی اور کس کی مخالفت۔ اور وہ وہی کرے جس سے اہل حق کی حمایت ہوتی ہو۔ ہر حال میں وہ اہل باطل کی حمایت سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے حتی کہ بالواسطہ حمایت سے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page