Al-Risala · February 1999 · page 25

سنتِ الہی

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۲۵

سنتِ الہی

پیغمبر اسلام ﷺ نے جب اپنی دعوتِ حق کا آغاز فرمایا تو وہ تمام لوگ آپ کے مخالف ہو گئے جن کے اوپر اس کی زد پڑتی تھی، جن کے مفادات اس سے مجروح ہو رہے تھے۔ چونکہ یہ لوگ دلائل کے ذریعہ آپ کی دعوت کا توڑ نہیں سکتے تھے، انھوں نے یہ تدبیر کی کہ آپ کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنا شروع کر دیا۔ اس صورتِ حال کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے ۔۔۔ اور انکار کرنے والوں نے کہا کہ اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں خلل ڈالو، شاید کہ تم غالب رہو۔ (حم السجدہ ۲۶)

اس آیت کی تشریح میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے: قرآن کریم کی آواز بجلی کی طرح سننے والوں کے دلوں میں اثر کرتی تھی۔ جو سنتا فریفتہ ہو جاتا۔ اس سے روکنے کی تدبیر منکروں نے یہ نکالی کہ جب قرآن پڑھا جائے، ادھر کان مت دھر و اور اس طرح ہماری بک بک سے قرآن کی آواز دب جائے گی۔ آج بھی جاہلوں کو ایسی ہی تدبیریں سوجھا کرتی ہیں کہ کام کی بات کو شور مچا کر سننے نہ دیا جائے۔ لیکن صداقت کی کڑک مچھروں اور مکھیوں کی بھنبھناہٹ سے کہاں مغلوب ہو سکتی ہے۔ ان سب تدبیروں کے باوجود حق کی آواز قلوب کی گہرائیوں تک پہنچ کر رہتی ہے (تفسیر عثمانی ۶۲۱)

پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کی جو مہم چلائی گئی تھی اس کی بہت سی مثالیں حدیث اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک مثال یہ ہے کہ جب قرآن کی سورہ النجم اتری تو آپ نے اس کو ایک ایسے مخلوط مجمع میں سنایا جہاں مسلمانوں کے ساتھ مشرک لوگ بھی موجود تھے۔ اس کو سناتے ہوئے آپ نے یہ آیتیں پڑھیں: افراء یتم اللّت والعزى. ومنوۃ الثالثۃ الاخرى ( النجم ۱۹-۲۰)

جیسے ہی آپ نے یہ آیتیں پڑھیں حاضرین میں سے ایک مشرک نے اس میں اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page