Al-Risala · February 1999 · page 26

سنتِ الہی

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۲۶

طرف سے یہ الفاظ ملا دیئے جو وہ جاہلی روایت کے تحت ان بتوں کے بارے میں پڑھا کرتے تھے : تلك الغرانيق العلى ، وان شفاعتهن لترتجى (یہ بڑی ہستیاں ہیں اور ان کی شفاعت کی قبولیت کی پوری امید ہے) تفسیر ابن کثیر ۲۲۹/۳۔

اس واقعہ کے بعد مخالفوں کی پروپیگنڈا مشین تیزی سے حرکت میں آگئی۔ انہوں نے مجمع کے اندر ایک مشرک کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو پیغمبر اسلام کی طرف منسوب کر کے یہ کہنا شروع کیا کہ دیکھو، اب تو محمدؐ نے بھی بتوں کی عظمت کو مان لیا۔ وہ بھی مشرکین کی بات کو دہرانے لگے (اس واقعہ کی تفصیل تفسیر کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے) یہ صرف کوئی ایک واقعہ نہیں، اس قسم کا معاملہ ہر دور میں اور ہر داعیٔ حق کے ساتھ پیش آتا ہے۔ حق کی دعوت جب بھی اٹھتی ہے وہ مضبوط دلائل پر قائم ہوتی ہے ۔ وہ انسانی فطرت کو اپیل کرتی ہے۔ لوگ تیزی سے اس کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں۔ یہ صورت حال ان لوگوں کے لئے خطرہ بن جاتی ہے جو غیر حق کو حق بتا کر اپنی قیادت قائم کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ جو دین کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ وہ دلائل کا مقابلہ دلائل سے کرنے میں اپنے کو عاجز محسوس کرتے ہیں ۔ چنانچہ وہ دلائل کا مقابلہ جھوٹے پروپیگنڈوں سے کرنے کے لئے حرکت میں آجاتے ہیں۔

پیغمبروں کے ساتھ اور اسی طرح حق کے داعیوں کے ساتھ بدنام کرنے کا یہ جو معاملہ پیش آتا ہے وہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں۔ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی گہری مصلحت شامل ہے۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے تاکہ لوگوں کو آزمایا جائے ۔ اس طرح وہ لوگ الگ ہو جاتے ہیں جو اپنی خدا ترسی اور معرفت حق کی بنا پر اس میں کامیاب رہتے ہیں کہ وہ حقیقی دلیل اور جھوٹے پروپیگنڈے میں فرق کر سکیں۔ وہ جھوٹے پروپیگنڈوں کو نظر انداز کر کے حق کے ساتھ اپنی وابستگی کو اور زیادہ مضبوط بنا لیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page