Al-Risala · February 1999 · page 27

سنتِ الہی

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۲۷

دوسری طرف حق کے مخالفین کی اسی مہم کے درمیان وہ لوگ کھل کر سامنے آجاتے ہیں جو بظاہر حق پرست بنے ہوئے تھے۔ لیکن ان کے اندر حقیقی معنوں میں نہ خدا کا خوف تھا اور نہ ایمان کی سچی روشنی۔ ایسے لوگ اپنے اندھے پن کی بنا پر دلیل اور غیر دلیل میں فرق نہیں کر پاتے۔ وہ جھوٹے الفاظ کو دلیل سمجھ کر ان سے متاثر ہو جاتے ہیں اور داعیان حق کے بارے میں شبہات میں پڑ جاتے ہیں۔ اس طرح وہ حق کی دعوت کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے، البتہ خود اپنی حقیقت کو وہ پوری طرح بے نقاب کر دیتے ہیں۔

یہی وہ خدائی قانون ہے جو قرآن کی ان آیتوں میں پیغمبر کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے: اور ہم نے تم سے پہلے جو بھی رسول اور نبی بھیجا تو جب اس نے کچھ پڑھا تو شیطان نے اس کے پڑھنے میں ملا دیا۔ پھر اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو مٹا دیتا ہے۔ پھر اللہ اپنی آیتوں کو پختہ کر دیتا ہے۔ اور اللہ علم والا، حکمت والا ہے۔ تاکہ جو کچھ شیطان نے ملایا ہے اس نے وہ ان لوگوں کو جانچے جن کے دلوں میں روگ ہے اور جن کے دل سخت ہیں۔ اور ظالم لوگ مخالفت میں بہت دور نکل گئے ہیں۔ اور تاکہ وہ لوگ جن کو علم ملا ہے جان لیں کہ یہ فی الواقع تیرے رب کی طرف سے ہے۔ پھر وہ اس پر یقین لائیں۔ اور ان کے دل اس کے آگے جھک جائیں۔ اور اللہ ایمان لانے والوں کو ضرور سیدھا راستہ دکھاتا ہے (الحج ۵۲۔ ۵۴) خدا کا مطلوب مومن وہ ہے جو خدا کی قائم کی ہوئی ایمانی کسوٹی پر پورا اترے۔ وہ کسوٹی یہ ہے کہ مخالف حالات میں وہ اپنے آپ کو صاحب ایمان ثابت کرے۔ شبہات کا طوفان بھی اس کے یقین کو متزلزل نہ کر سکے۔ ہر قسم کے ناموافق اسباب کے باوجود وہ حق کو پہچان لے اور اپنے آپ کو اس کے ساتھ وابستہ کر دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page