ہند تو: حقیقت یا افسانہ
الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۲۹
ایک مقام پر الگ الگ خانوں میں رکھ دی گئی ہوں اور ان کو ایک نہ کیا جا سکتا ہو۔ انڈیا ممتاز طور پر اور ہزاروں سال سے ایک یکساں کلچر کا ملک ہے اگر چہ وہ یک سنگی نہیں :
غیر ہند و فرقے اگر ہند تو کے علم برداروں کے اس مطالبہ کو بلا بحث مان لیں تب بھی اصل مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔ کیوں کہ یکساں کلچر کو اختیار کرنے کے لیے اس کا ایک ماڈل ہونا ضروری ہے۔ حالاں کہ ایسا کوئی ماڈل سرے سے ملک کے اندر موجود ہی نہیں۔ اور جب ماڈل موجود نہ ہو تو اس کی پیروی کس طرح کی جائے گی۔
وہ چیز جس کو یہ حضرات ہندو کلچر یا بھارتی کلچر کہتے ہیں ، وہ بروقت کسی ایک چیز کا نام نہیں ہے۔ اس میں بیک وقت بے شمار خدا ہیں۔ بابری مسجد کو ڈھانے والے بھارتی کلچر کے نمائندوں نے پر فخر طور پر اجودھیا میں یہ نعرہ لگایا تھا کہ : ایک طرف ۳۳ کروڑ ، ایک طرف ایک اللہ۔ اسی طرح ہندوؤں میں زبان ، کھانا ، کپڑا ، رہن سہن ، ہر چیز میں اختلاف ہے۔ حتی کہ ایک ہند و مبصر کے الفاظ میں ، اس ملک میں جتنے ہندو ہیں ، اتنی ہی ان کی قسمیں ہیں۔
جب ہندو کی اتنی زیادہ قسمیں ہیں تو سوال یہ ہے کہ وہ کون ہندو ہے جس کو پیروی کے لیے ماڈل سمجھا جائے ۔ کیا وہ ہندو جو کوٹ اور پتلون پہنتا ہے یا وہ ہندو جو دھوتی اور کرتا پہنتا ہے۔ وہ ہندو جو مورتی پوجا کرتا ہے یا وہ ہندو جو مورتی پوجا کا کھنڈن کرتا ہے۔ وہ ہندو جو آستک ہے یا وہ ہندو جو ناسٹک ہے۔ وہ ہندو جو رامائن اور مہا بھارت کو تاریخ کہتا ہے یا وہ ہندو جو رامائن اور مہا بھارت کو افسانہ (میتھ) سمجھتا ہے۔ وہ ہندو جو شاکاہاری ہے یا وہ ہندو جو نسا ہاری ہے۔ وہ ہندو جو ہندو ازم کو مذہب بتاتا ہے یا وہ ہندو جو ہندو ازم کو فلاسفی قرار دیتا ہے۔ وہ ہندو جو رام کو ہیرو مانتا ہے یا وہ ہندو جو راون کو ہیرو سمجھتا ہے۔ وہ ہندو جو اوچ ذات اور نیچ ذات میں یقین رکھتا ہے یا وہ ہندو جو ان باتوں کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔
اس قسم کے بے شمار فرق ہیں جو ایک ہندو اور دوسرے ہندو کے درمیان پائے جاتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues