ہند تو: حقیقت یا افسانہ
الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۳۰
اب سوال یہ ہے کہ ان میں سے کون سا ہندو ہے جو ہند و ازم یا ہند و کلچر کے لیے ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسی حالت میں ہندو تو کے علم برداروں کو پہلے خود ہندوؤں کے اوپر اپنا بلڈوزر چلا کر انھیں ایک کلچر یا یکساں کلچر کا نمونہ بنانا ہوگا۔ اس کے بعد ہی وہ غیر ہندو فرقوں سے یہ مانگ سکتے ہیں ۔ کہ وہ اس "ماڈل ہندو " کی پیروی کریں۔
اگر یہ حضرات سنجیدگی کے ساتھ غور کریں تو انھیں معلوم ہوگا کہ ان اختلافات کو بلڈ وز کر کے ہند تو کا کوئی ایک ماڈل بنانا قابل عمل نہیں، اس لئے ہند تو کی بنیاد پر ملک کی تعمیر بھی یقینی طور پر قابل عمل نہیں۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ ہندو سوسائٹی میں اختلافات اتنے زیادہ بنیادی ہیں جو کبھی ختم ہونے والے نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالت میں مسٹر گری لال جن کے الفاظ خود ہندو فرقہ پر زیادہ بڑے پیمانہ پر صادق آتے ہیں۔ ہندو فرقہ خود ایک بہت بڑا ہیومن زدہ ہے۔ اپنے موجودہ تنوعات کے ساتھ ہندو فرقہ کے لیے یکساں کلچر کا ناموز بنانا ممکن نہیں۔ وہ متنوع کلچر (composite culture) کا ماڈل یقیناً ہے مگر وہ یکساں کلچر کا ماڈل ہرگز نہیں۔
ہند تو کی اس کمزوری کا اعتراف خود ہند تو کے علم برداروں کو بھی کرنا پڑتا ہے ۔ چنانچہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ ہندو کی مشترک تعریف کے لیے کوئی واضح بنیاد موجودہ حالت میں موجود نہیں۔ کیوں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ایک ہندو ، عمومی اعتبار سے، سب سے پہلے ایک ذات سے تعلق رکھتا ہے ، اس کے بعد ہی وہ ہندو برادری کا حصہ بنتا ہے :
A Hindu, generally speaking, belongs to a caste before he belongs to the مسٹر گری لال جین (۱۹۹۳– ۱۹۲۲) نے اپنے ایک مفصل مضمون میں لکھا تھا کہ ہندو قومیت کی دو قسمیں ہیں، منفی اور مثبت منفی ہندو قومیت درجات کے فرق کے ساتھ محض مسلم مخالفت جذبہ پر قائم ہے ۔ مثبت ہندو قومیت کا تعلق ایک ہندو تشخص کے لیے اپیل کرنے پر ہے۔ مگر چوں کہ یہ تشخص ہندوؤں کے درمیان داخلی یکسانیت نہ ہونے کی وجہ سے غیر واقعی ہے اس لیے مثبت ہندو قومیت وجود میں آنے کے مقابل نہیں۔ اس طرح جو چیز ممکن ہے وہ مطلوب نہیں اور جو چیز مطلوب ہے وہ ممکن نہیں :
‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues