ہند تو: حقیقت یا افسانہ
الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۳۲
دلیپ پیڈگاؤنکر (Dileep Padgaonkar) نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس دنیا میں ہر آدمی کی مختلف حیثیت ہوتی ہے۔ آپ اس قانون قدرت کو بدل نہیں سکتے ۔ اس معاملہ میں ہمیں تنگ نظری کے بجائے وسعت نظری کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ۔
انھوں نے کہا کہ میں مہاراشٹر میں پیدا ہوا۔ اب میں دہلی میں رہتا ہوں۔ وطن ، زبان، مذہب، تہذیب ، تعلیم ہر لحاظ سے میری مختلف حیثیتیں ہیں۔ اسی طرح تاریخ کے اعتبار سے میری مختلف حیثیت ہے۔ میری زندگی میں قدیم بھارتی عہد کا حصہ ہے۔ پھر میری زندگی پر مسلمانوں کے ہزار سال عہد کی چھاپ ہے۔ اس کے بعد برٹش عہد آیا۔ اس نے بھی میری زندگی پر اثرات ڈالے۔ اب میں آزاد انڈیا کا ایک فرد ہوں۔ یہ ساری چیزیں میری زندگی کا حصہ ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی میں اپنے سے الگ نہیں کر سکتا۔ اس قسم کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے مشہور انگلش رائٹر والٹ وٹمین (Walt Whitman) کا قول دہرایا اور کہا کہ ہمیں ان تمام تضادات کے ساتھ جینا ہے۔ میں اتنا زیادہ وسیع ہوں کہ ان تمام تضادات کو اپنی زندگی میں سمو سکوں :
والٹ وٹمین (۱۸۹۲ - ۱۸۱۹) کا یہ قول زندگی کی ایک حقیقت کو بتاتا ہے۔ انسان تضادات کا مجموعہ ہے اور تضادات سے نباہ کر کے ہی وہ کامیاب ہو سکتا ہے ۔
انڈین کلچر اور انڈین ہسٹری کے مشہور عالم پنڈت بی این پانڈے (۸۸ سال) کا ایک انٹرویو ٹائمز آف انڈیا (۲۲ اگست ۱۹۹۳) میں چھپا ہے۔ ان سے یہ انٹرویو مسٹر ایس کالی داس نے لیا ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مشکل یہ ہے کہ آج کا ہندو تو ہمارے دھرم کی مقدس کتابوں سے بہت کم مناسبت رکھتا ہے ۔ اتھرو وید میں ہے کہ یہ دیش کئی مذہبوں ، کئی نسلوں، کئی ذاتوں، کئی زبانوں کا دیش ہے۔ اس کے اندر مزید یہ کہا گیا ہے کہ اس دیش کو دل کر رہنے کے لیے ایک اصول کو مان لینا چاہیے ۔ وہ یہ کہ یہ سر زمین ہماری مادر وطن ہے اور ہم سب اس کی سنتاں ہیں ۔ اس طرح پانچ پانچ ہزار سال پہلے ہم اس اصول پر متفق ہو چکے ہیں کہ اس دیش میں زبان، عقیدہ اور کلچر کے اختلاف کے باوجود ہم پر امن طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے :
‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues