Al-Risala · February 1999 · page 34

شیطان کا فریب

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۳۴

شیطان کا فریب

مدنی دور کا ایک واقعہ حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ایک بار رات کے وقت مسجد سے گھر جا رہے تھے۔ آپ کے ساتھ ایک خاتون تھیں۔ راستہ میں آپ کی ملاقات انصار کے دو مسلمانوں سے ہوئی۔ آپ نے انھیں بلایا اور کہا کہ یہ میری بیوی صفیہ ہیں۔ ان دونوں آدمیوں نے کہا کہ سبحان اللہ (کیا آپ کے بارے میں ہمیں شک ہو سکتا ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان آدمی کے اندر خون کی گردش کی طرح دوڑتا ہے (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۴ / ۳۳۰)

حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت جلد شبہ میں پڑ جاتا ہے۔ وہ کسی کے بارے میں کچھ سنتا یا دیکھتا ہے تو شیطان اس میں آمیزش کر کے اس کو غلط رخ دے دیتا ہے۔ وہ ایک سادہ واقعہ کو قابل اعتراض واقعہ بنا دیتا ہے۔ کسی کے بارے میں اس قسم کی غلط فہمی بلا شبہ سخت گناہ ہے۔ اس گناہ سے بچنے کا حل یہ ہے کہ چیزوں کو ان کی ظاہری صورت (face value) پر نہ لیا جائے۔ اکثر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بات یا کوئی واقعہ اپنی ظاہری صورت میں جیسا معلوم ہوتا ہے، اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ مثلاً مذکورہ واقعہ کو سادہ طور پر دیکھ کر ایک شخص یہ سوچ سکتا تھا کہ رسول اللہ رات کے وقت ایک اجنبی خاتون کے ساتھ ہیں۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ آپ اس وقت اپنی اہلیہ محترمہ کے ساتھ تھے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ رائے قائم کرنے میں کبھی جلدی نہ کرے ۔ کسی دیکھی یا سنی ہوئی بات کے بارے میں وہ اس وقت تک ہرگز کوئی رائے قائم نہ کرے جب تک تمام متعلقہ پہلوؤں سے وہ اس کی تحقیق نہ کرلے۔ اکثر بری رائے غلط فہمی پر مبنی ہوتی ہے اور اکثر غلط فہمی صرف شیطان کا فریب ہوتی ہے نہ کہ کوئی واقعی حقیقت۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page