Al-Risala · February 1999 · page 36

تصویر کا فتنه

الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۳۶

شناختی کارڈ سے ان کی تصویر نکالی اور لے جا کر اسے مذکورہ نوجوان کو دے دیا۔ اب مذکورہ نوجوان نے خاتون کی اس تصویر کو اپنی تصویر کے ساتھ ملا کر ایک مشترک فوٹو کھنچوایا اور پھر اس فوٹو کو لے کر مذکورہ خاتون کو بدنام کرنا شروع کر دیا۔

فوٹو کے ذریعہ جھوٹے پروپیگنڈے کی سیاست موجودہ زمانہ میں بہت عام ہے ۔ اخباروں میں اکثر اس طرح کے قصے آتے رہتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں کوئی بھی شخصیت اس قسم کے جھوٹے پروپیگنڈے کی زد سے محفوظ نہیں۔

فوٹو پر مبنی جھوٹا پروپیگنڈہ دو چیزوں کے ذریعہ ممکن ہوا ہے۔ ایک کیمرہ اور دوسرے اخبار۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اگر کیمرہ اور اخبار قدیم زمانہ میں موجود ہوتے تو انتہائی صالح قسم کے لوگ حتی کہ پیغمبر بھی نعوذباللہ ثم نعوذباللہ اس مکروہ سیاست سے شاید محفوظ نہ رہ پاتے۔ مثال کے طور پر قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین کے سفر میں ایک بار شام کو ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد ایک بزرگ کے بلانے پر ان کی غیر شادی شدہ صاحبزادی کے ساتھ چل کر وہ مذکورہ بزرگ کے گھر گئے۔ اگر اس وقت کیمرہ موجود ہوتا اور اخبار نکل رہے ہوتے تو ایک کیمرہ والا اس منظر کا فوٹو لے لیتا اور اگلے دن کے اخبار میں ایک تصویر چھپتی جس کے نیچے نعوذ باللہ یہ الفاظ لکھے ہوئے ہوتے۔ ۔۔ پیغمبر موسیٰ تنہا ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ۔

اسی طرح پیغمبر اسلام ﷺ تیرہ سال تک مکہ میں تھے۔ وہاں آپ کعبہ میں جا کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ اس وقت وہاں ۳۶۰ بت تھے۔ یہ بت کسی بند بکس میں رکھے ہوئے نہیں تھے بلکہ بیت اللہ میں ہر طرف نصب تھے۔ رسول اللہ ﷺ وہاں بار بار رکوع یا سجدہ میں ہوتے تھے۔ اس وقت اگر وہاں کیمرہ اور اخبار موجود ہوتا تو ایک کیمرہ والا مخصوص اینگل سے آپ کا ایسا فوٹو لے سکتا تھا جس کے فوکس میں خدا نخواستہ ایک بت بھی دکھائی دیتا۔ اس کے بعد اگلے دن کے اخبار

‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues

Printed page