تصویر کا فتنه
الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۳۷
میں ایک تصویر چھپتی جس کے نیچے نعوذ باللہ یہ الفاظ لکھے ہوئے ہوتے کہ--- پیغمبر توحید ایک بت کے آگے جھکے ہوئے۔
جیسا کہ معلوم ہے ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ بعض اتفاقی اسباب سے قافلہ کے پیچھے رہ گئی تھیں۔ بعد کو وہ ایک مسلم نوجوان کے ساتھ مدینہ آئیں۔ اس وقت اگر کیمرہ اور اخبار موجود ہوتے تو ایک کیمرہ والا اس منظر کا فوٹو لے لیتا اور پھر اگلے دن مدینہ کے اخبار میں ایک تصویر چھپتی جس کے نیچے نعوذ باللہ یہ الفاظ لکھے ہوئے ہوتے --- پیغمبر کی نو عمر بیوی ایک اجنبی نوجوان کے ساتھ۔
اس قسم کے جھوٹے تصویری افسانے کسی بھی شخص کے خلاف بنائے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر مولانا اسماعیل شہید قدیم دہلی میں رہتے تھے۔ وہ اپنے وعظ کے لئے مشہور تھے۔ ایک بار دہلی کی طوائفوں کی طرف سے انہیں پیغام ملا کہ آپ ہمارے یہاں تشریف لائیں اور ہم کو وعظ فرمائیں۔ شاہ اسماعیل شہید نے اس دعوت کو قبول فرما لیا۔ وہ وہاں گئے اور بیڑھیوں پر چڑھ کر اوپر کے دروازے پر پہنچے اور وہاں کھڑے ہو کر وعظ فرمایا۔ پھر واپس آئے۔ اگر اس زمانہ میں کیمرہ ہو تا تو جب وہ وہاں کی سیڑھیوں پر چڑھ رہے تھے اس وقت کوئی کیمرہ والا اس منظر کا فوٹو لے لیتا اور پھر اگلے دن دہلی کے اخبار میں ایک تصویر چھپتی جس کے نیچے نعوذ باللہ یہ الفاظ لکھے ہوئے ہوتے--- مولا نا شاہ اسماعیل صاحب طوائف کے کوٹھے پر چڑھتے ہوئے۔
اس قسم کے تصویری پروپیگنڈے موجودہ زمانہ میں بہت زیادہ عام ہیں۔ اکثر بے بنیاد افواہیں جھوٹی تصویروں کی مدد سے پھیلائی جاتی ہیں۔ ایسی مثالیں ہندوستان میں بھی بار بار پیش آئی ہیں اور باہر کے ملکوں میں بھی۔
مجھے خود بھی متعدد بار اس قسم کے تصویری پروپیگنڈے کا تجربہ پیش آیا ہے۔ ایک بار میں نے ایک عرب پرچے میں بیت المقدس (قبتہ الصخرا) کی تصویر دیکھی۔ اس تصویر میں نظر
‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues