تصویر کا فتنه
الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۳۹
ایک انٹرویو
۷ دسمبر ۱۹۹۸ کو کانسٹی ٹیوشن کلب (نئی دہلی) میں ایک سیمینار تھا۔ اس کا انتظام سارک سٹی زن فورم (SAARC Citizens Forum) کی طرف سے کیا گیا تھا۔ یہاں ۷ دسمبر کی شام کو پی ٹی آئی (پریس ٹرسٹ آف انڈیا) کے نمائندہ کے جی سورش نے راقم الحروف سے ملاقات کی اور ایک انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات کا تعلق زیادہ تر وندے ماترم کے اشو سے تھا۔ (3718713-3717642 -Tel) انھوں نے سوال کیا کہ آج کل وندے ماترم کا اشو میڈیا میں بہت زیادہ آ رہا ہے۔ کچھ لوگ اس کے موافق ہیں اور کچھ لوگ اس کے مخالف۔ اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔
میں نے کہا کہ اس معاملہ میں پہلی بات یہ ہے کہ غیر خدا کی پرستش اسلام میں جائز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ اتنا زیادہ بڑھ گیا۔ اپنے اس عقیدہ کی بنا پر مسلم مائنڈ ونڈے ماترم کو کبھی قبول نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ اس نظم میں بھارت کو معبود کا درجہ دے کر اس کے لئے پرستش کے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔
ان کے ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ وطن کی پوجا اور وطن کی محبت دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ وطن کی محبت ایک فطری چیز ہے اور وہ بلاشبہ اسلام کے مطابق ہے۔ ہر انسان کو اپنے وطن سے محبت ہوتی ہے اور اسی طرح مسلمانوں کو بھی اپنے وطن سے محبت ہے۔ مگر جہاں تک وطن کی پوجا کا تعلق ہے، وہ اسلام کے مطابق نہیں۔ میں نے کہا کہ وطن کی پرستش ایک مخصوص مذہبی عقیدہ ہے، حب الوطنی سے اس کا براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ اس قسم کا مذہبی عقیدہ ایک انفرادی معاملہ ہے، وہ پورے ملک کا اجتماعی معاملہ نہیں۔ اس لئے اس عقیدہ کو حب وطن کے معاملہ سے الگ رکھنا چاہیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues