تصویر کا فتنه
الرسالہ، فروری ۱۹۹۹، صفحہ ۳۸
آرہا تھا کہ اسرائیلی فوجی بندوق کے ساتھ قبة الصخرا کے قریب دونوں طرف کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کے پاؤں زمین پر تھے اور سر گنبد کے اوپر تک پہنچے ہوئے تھے۔
بظاہر یہ ایک سچا فوٹو دکھائی دیتا تھا۔ مگر جب میں نے گہرائی کے ساتھ غور کیا تو یہ فوٹو غیر فطری نظر آیا کیونکہ ایسا واقعہ صرف اس وقت ممکن تھا جب کہ ان اسرائیلی فوجیوں کا قد تار کے برابر ہو۔ اصل یہ ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی یہ تصویر کاٹ کر قبة الصخرا کی تصویر کے ساتھ چپکائی گئی تھی۔ اور پھر اس مصنوعی تصویر کا فوٹو لے کر اس کو میگزین میں چھاپا گیا تھا۔ اس کے بعد جب میں فلسطین گیا اور مسجد اقصی اور قبة الصخرا کو دیکھا تو میرے قیاس کی تصدیق ہو گئی۔ وہاں میں نے پایا کہ قبة الصخرا کے کمپاؤنڈ میں اندر کوئی اسرائیلی فوجی نہیں رہتا۔ اسرائیلی فوجی صرف گیٹ کے باہر ہوتے ہیں۔ اور باہر کھڑے ہوئے ان اسرائیلی فوجیوں کے قد یقینی طور پر عام انسانی قد کے مانند تھے نہ کہ تار کے درخت کے مانند۔ تصویری پروپیگنڈے کی یہ قسم دوسروں کے لئے صرف ایک جھوٹی سیاست ہے مگر مسلمانوں کے لئے وہ مزید اضافہ کے ساتھ ایک نا قابل معافی گناہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1999 All issues